حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 92
حیات احمد ۹۲ جلد پنجم حصہ دوم انگریزی کے عالم یہاں ہیں۔فارسی کے عالم یہاں ہیں۔ڈاکٹر یہاں ہیں وغیرہ وغیرہ تو اس پر ایک خاص قسم کا اثر ہوتا تھا۔مسیح کی قبر کشمیر کے بیان کے سلسلہ میں اُس نے بتایا کہ میں نے ایک سکہ دیکھا ہے جس پر لکھا تھا کہ میں شہنشاہ اور نجات دہندہ ہوں اُس نے یہ بھی کہا کہ کشمیر کے ایک پنڈت نے مجھے کہا کہ میرے پاس سنسکرت زبان میں ایک کتاب ہے جس میں مسیح کے حالات لکھے ہوئے ہیں۔اور اس نے یہ بھی کہا کہ بدھوں کی زبان پالی ہے اور یہودیہ کو پالٹائن یا پاکستان کہتے ہیں اس نے کشمیریوں کے بنی اسرائیل ہونے کے ذکر میں بیان کیا۔عصر کی نماز کے بعد اُس نے حضرت اقدس کے تین فوٹو لئے دو فوٹو آپ کے احباب کے ساتھ لئے اور ایک فوٹو الگ لیا۔( الحکم مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۰۱ء صفحه ۳) دوسرے دن ۱۸ ستمبر ۱۹۰۱ء کومسٹر ڈکسن نے قادیان سے رخصت ہونا تھا حضرت اقدس پہلے سے نیچے آ کر تشریف فرما تھے۔خدام بھی حاضر تھے مسٹر ڈکسن تیار ہو کر وہاں ہی آ گیا اور مختلف امور پر گفتگو ہوتی رہی۔آپ سدانشان صداقت ہیں اسی ضمن میں مسٹر ڈکسن نے سوال کیا کہ آپ کے اس دعویٰ کا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے مرسل ہیں کیا ثبوت ہے؟ آپ نے بڑے جوش اور بلند آواز سے فرمایا کہ خود آپ کا وجود میرے دعوی کا ثبوت ہے۔مسٹرڈکسن کچھ حیران ہوئے اور پوچھا کہ میں کیسے نشان ہوں آپ نے اس پر ایک لمبی تقریر کی اور کہا کہ ایسے زمانہ میں کہ کوئی مجھے جانتا نہ تھا اور میرے پاس کوئی آتا نہ تھا اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے بطور پیشگوئی الہام کیا کہ تیرے پاس دور دور سے لوگ آئیں گے۔اب آپ بتائیے میں نے آپ کو کوئی دعوت دیا تھا آج سے پہلے میں آپ سے واقف بھی نہ تھا