حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 91
حیات احمد ۹۱ جلد پنجم حصہ دوم یورپین۔یہ بیچ ہے مگر میں نے اپنے پیش نظر گل دنیا کا دیکھنا رکھا ہے۔اگر میں اس طرح پر ٹھہر نے لگوں تو مجھے اندیشہ ہے کہ بہت سی دلچسپیاں مجھے ٹھہراتی جائیں گی۔حضرت۔آپ کے چہرے سے اچھے آثار نظر آتے ہیں اور آپ سمجھدار اور زیرک معلوم ہوتے ہیں کیا اچھا ہو کہ آپ ایک ہفتہ یہاں رہ جاویں اور ہماری باتوں کو سمجھ لیں۔اگر آپ کا ارادہ ہو اور آپ پسند کریں تو صاحب کو ایک چٹھی لکھ دی جاوے۔یورپین۔میں آپ کا بہت مشکور ہوں اور مجھے افسوس ہے کہ میں ایک دن سے زیادہ نہیں ٹھہر سکتا۔( ملفوظات جلد اصفحه۵۸۰ تا ۵۸۲ بحواله احکم ۲۴ نومبر ۱۹۰۱ء صفحه ۲ ۳۱ زیر۷ار نومبر ۱۹۰۱ء) اس کے بعد حضرت اقدس نے نو وار دستیاح کے لئے کھانے کا حکم دیا کہ جو کچھ یہ کھانا چاہیں وہ شیخ مسیح اللہ خانساماں سے جو وہ انگریزی کھانے پکانے میں استاد ہیں طیار کرایا جاوے اور گول کمرہ میں ان کو ٹھہرا دیا جاوے۔چنانچہ حضرت اقدس اس کے بعد تشریف لے گئے اور صاحب ممدوح مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کی رہبری سے اور چند احباب کے ہمراہ مدرسہ کے مختلف کمروں میں گئے اور پھر لائبریری میں جا کر ٹاٹو وچ روسی کی کتاب " مسیح کی نامعلوم زندگی کے حالات کو دیکھ کر اس کتاب کے پڑھنے کی خواہش ظاہر کی جو اُن کو فی الفور نکال کر دی گئی۔اس کے بعد ان کو گول کمرہ میں ٹھہرایا گیا اس اثناء میں ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سے کچھ باتیں ہوتی رہیں اور پھر مولوی محمد علی صاحب اور مفتی محمد صادق صاحب مختلف اوقات میں اس سے اپنے مذہب کے متعلق عجیب عجیب پیرائیوں میں کلام کرتے رہے خصوصیت کے ساتھ مسیح کی قبر کا کشمیر میں ہونا اور عربی زبان کا ام الالسنہ ہونا اور دوسرے مسلمانوں کی نسبت احمدی قوم کے خاص طور پر اخلاق اور روحانی ترقی میں ممتاز ہونے کا ذکر ہوتا رہا جس کا اس نے خود اعتراف کیا اور یہ دیکھ کر اسے تعجب ہوا کہ کیونکر ایک چھوٹے سے گاؤں میں جہاں کسی قسم کی دلچسپی کا سامان نہیں ایک شخص ہر قسم کے اہل کمال اور زیرک انسان اپنے گرد جمع رکھتا ہے۔جب وہ یہ سنتا کہ عربی کے عالم یہاں ہیں۔عِبری کے عالم یہاں ہیں۔