حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 64
حیات احمد ۶۴ جلد پنجم حصہ اول چونکہ مسلمانوں کا ایک نیا فرقہ جس کا امام اور پیشوا اور پیر یہ راقم ہے پنجاب اور ہندوستان کے اکثر شہروں میں زور سے پھیلتا جاتا ہے اور بڑے بڑے تعلیم یافتہ مہذب اور معزز عہدہ دار اور نیک نام رئیس اور تاجر پنجاب اور ہندوستان کے اس فرقہ میں داخل ہوتے جاتے ہیں اور عموماً پنجاب کے شریف مسلمانوں کے نو تعلیم یاب جیسے بی۔اے اور ایم۔اے اس فرقہ میں داخل ہیں اور داخل ہور ہے ہیں اور یہ ایک گروہ کثیر ہو گیا ہے جواس ملک میں روز بروز ترقی کر رہا ہے اس لئے میں نے قرین مصلحت سمجھا کہ اس فرقہ جدیدہ اور نیز اپنے تمام حالات سے جو اس فرقہ کا پیشوا ہوں لیفٹیننٹ گورنر بہادر کو آگاہ کروں۔اور یہ ضرورت اس لئے بھی پیش آئی کہ یہ ایک معمولی بات ہے کہ ہر ایک فرقہ جو ایک نئی صورت سے پیدا ہوتا ہے گورنمنٹ کو حاجت پڑتی ہے کہ اس کے اندرونی حالات دریافت کرے اور بسا اوقات ایسے نئے فرقہ کے دشمن اور خود غرض جن کی عداوت اور مخالفت ہر ایک نئے فرقہ کے لئے ضروری ہے گورنمنٹ میں خلاف واقعہ خبریں پہنچاتے ہیں اور مفتریا نہ مخبریوں سے گورنمنٹ کو پریشانی میں ڈالتے ہیں۔پس چونکہ گورنمنٹ عالم الغیب نہیں ہے اس لئے ممکن ہے کہ گورنمنٹ عالیہ ایسی مخبریوں کی کثرت کی وجہ سے کسی قدر بدظنی کی طرف مائل ہو جائے۔لہذا گورنمنٹ عالیہ کی اطلاع کے لئے چند ضروری امور ذیل میں لکھتا ہوں ہاں اس بات کا بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ میں نے بہت سی مذہبی کتابیں تالیف کر کے عملی طور پر اس بات کو بھی دکھلایا ہے کہ ہم لوگ سکھوں کے عہد میں کیسے مذہبی امور میں مجبور کئے گئے اور فرائض دعوت دین اور تائید اسلام سے روکے گئے تھے اور پھر اس گورنمنٹ محسنہ کے وقت میں کسی قدر مذہبی آزادی بھی ہمیں حاصل ہوئی کہ ہم پادریوں کے مقابل پر بھی جو گورنمنٹ کی قوم میں داخل ہیں پورے زور سے اپنے حقانیت کے دلائل پیش کر سکتے ہیں۔میں یہ سچ سچ کہتا ہوں کہ ایسی کتابوں کی تالیف