حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 63
حیات احمد ۶۳ جلد پنجم حصہ اول اور ہنسی اڑانا کسی دانشمند اور خیر خواہ ملک کا کام نہیں ہونا چاہیے اصل مطلب سے غرض رکھنی ضروری ہے۔اور جب پاک تبدیلی ہو جاوے گی تو وباء سے محفوظ ہو کر باقی مدارج ایمان پر بھی انسان ترقی کرنے کے قابل ہو جاوے گا۔ان ساری باتوں کو چھوڑ کر خدا ترسی اور نیکوکاری اور پاکیزہ چال چلن ایسی باتیں ہیں جن کی ہر حال اور ہر وقت انسان کو ضرورت ہے وباء ہو یا نہ ہو ، عام طور پر کیا پیسہ اخبار یا کوئی اور معقول آدمی بھی چاہتے ہیں کہ لوگ حیوانوں اور درندوں کی سی زندگی بسر کریں یقیناً پھر ایسی کارآمد باتوں اور مشوروں کو یوں ہی سرسری نظر سے دیکھ جانا بھی مناسب نہیں ہوسکتا۔“ الحکم نمبر ا جلد ۲ مورخه ۲۰ فروری ۱۸۹۸ صفحه ۶ تا ۸ وصفحہ ۱ کے بعد صفحہ ۱۸الف و ۸ب) جیسا کہ امید تھی پیسہ اخبار نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔اس اثناء میں جماعت ترقی کر رہی تھی اور اس کی مخالفت صرف علماء سوء ہی نہیں کر رہے تھے بلکہ دوسرے مذاہب کے لیڈر بھی اپنے خلاف تنقیدی دلائل کو دیکھتے ہوئے مختلف طریقوں سے اس کی مخالفت کر رہے تھے اور گورنمنٹ وقت کو بھی بدظن کرنے لئے مختلف حیلے تراشے جاتے تھے کبھی مہدویت کے دعوی کی بناء پر اور کبھی کسی اور رنگ میں کہ اس جماعت کا اثر سرحدی پٹھانوں میں بڑھ رہا ہے۔حکومت اور جماعت احمد یہ اس لئے حضرت اقدس نے مناسب سمجھا کہ حکومت پنجاب کو سلسلہ کے اغراض اور جماعت کی پوزیشن سے آگاہ کیا جاوے اور اس مقصد کے لئے آپ نے لیفٹینٹ گورنر پنجاب کو ۲۴ فروری ۱۸۹۸ء کو ایک مبسوط میموریل دیا یہ میموریل تبلیغ رسالت جلد ہفتم کے صفحہ ے سے صفحہ ۲۸ تک شائع کیا گیا۔میں اس کے چند اقتباسات دیتا ہوں میموریل کے آخر میں جماعت کے معز مخلص احباب کی فہرست دی ہے جن میں ہر طبقہ کے احباب کے نام درج ہیں جیسا کہ میموریل کے آغاز میں آپ نے بیان کیا ہے۔