حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 65 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 65

حیات احمد جلد پنجم حصہ اول سے جو پادریوں کے مذہب کے رد میں لکھی جاتی ہیں گورنمنٹ کے عادلانہ اصولوں کا اعلیٰ نمونہ لوگوں کو ملتا ہے اور غیر ملکوں کے لوگ خاص کر اسلامی بلاد کے نیک فطرت جب ایسی کتابوں کو دیکھتے ہیں جو ہمارے ملک سے ان ملکوں میں جاتی ہیں تو ان کو اس گورنمنٹ سے نہایت اُنس پیدا ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ بعض خیال کرتے ہیں کہ شاید یہ گورنمنٹ ڈر پر وہ مسلمان ہے۔اور اس طرح پر ہماری فلموں کے ذریعہ سے گورنمنٹ ہزاروں دلوں کو فتح کرتی جاتی ہے۔دیسی پادریوں کے نہایت دل آزار حملے اور توہین آمیز کتابیں درحقیقت ایسی تھیں کہ اگر آزادی کے ساتھ ان کی مدافعت نہ کی جاتی اور ان کے سخت کلمات کے عوض ہماری کسی قدر مہذبانہ سختی استعمال میں نہ آتی تو بعض جاہل جو جلد تر بدگمانی کی طرف جھک جاتے ہیں شاید یہ خیال کرتے کہ گورنمنٹ کو پادریوں کی خاص رعایت ہے مگراب ایسا خیال کوئی نہیں کر سکتا اور بالمقابل کتابوں کے شائع ہونے سے وہ اشتعال جو پادریوں کی سخت تحریروں سے پیدا ہونا ممکن تھا اندر ہی اندر دب گیا اور لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ ہماری گورنمنٹ عالیہ نے ہر ایک مذہب کے پیرو کو اپنے مذہب کی تائید میں عام آزادی دی ہے جس سے ہر ایک فرقہ برابر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔پادریوں کی کوئی خصوصیت نہیں غرض ہماری بالمقابل تحریروں سے گورنمنٹ کے پاک ارادوں اور نیک نیتی کا لوگوں کو تجربہ ہو گیا اور اب ہزار ہا آدمی انشراح صدر سے اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ در حقیقت یہ اعلیٰ خوبی اس گورنمنٹ کو حاصل ہے کہ اس نے مذہبی تحریرات میں پادریوں کا ذرہ پاس نہیں کیا اور اپنی رعایا کوحق آزادی برابر طور پر دیا ہے۔مگر تا ہم نہایت ادب سے گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں عرض ہے کہ اس قدر آزادی کا بعض دلوں پر اچھا اثر محسوس نہیں ہوتا۔اور سخت الفاظ کی وجہ سے قوموں میں تفرقہ اور نفاق اور بغض بڑھتا جاتا ہے اور اخلاقی حالت پر بھی اس کا بڑا اثر ہوتا ہے