حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 54 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 54

حیات احمد ۵۴ جلد پنجم حصہ اول ہوتا ہے کہ وہ عذاب نازل کرنے سے پیشتر ایک نذیر بھیج دیتا ہے جس کے بعد عذاب الہی تیار ہوتا ہے، بشرطیکہ رجوع الی اللہ اور تَوْبَةُ النُّصُوح نہ کی جاوے یہ ایک سچا امر اور فیکٹ (امر واقعی ) ہے دنیا کے عذابوں کی تاریخ اور مامور ان الی اللہ کی بعثت کی ہسٹری پر جہاں تک جی چاہے نظر کر کے دیکھ لو اور اس میں راز اور سر یہ ہوتا ہے کہ مامور کے آنے پر عذاب الہی ضرور ہی کسی نہ کسی رنگ میں آتا ہے تا کہ طبیعتوں میں بیداری اور خواب غفلت سے چونک اٹھنے کا مادہ پیدا ہو اور خود قرآن نے ہی اس کو بھی بیان کیا ہے۔جیسا کہ فرمایا وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّنْ نَّبِيَّ إِلَّا أَخَذْنَا أهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضُرَّعُونَ لے گویا عذاب الہی کے نزول کی فلاسفی یہی ہے کہ وہ کسی مامور من اللہ کے آنے پر آتا ہے اور اس لئے آتا ہے لَعَلَّهُمْ يَضُرَّعُونَ تاکہ ان میں تضرع کا مادہ پیدا ہو۔اب اس عذاب الہی کو جو اس وقت طاعون یا دوسری خوفناک شکلوں میں مختلف امصار و دیار میں پھیل رہا ہے۔خشوع اور خضوع پیدا کرنے والے ملائکہ کہنا چاہیے اور یہ بتلانا اُسی کا کام ہے جو آسمان سے سماوی فراست لے کر آوے اور چونکہ جیسا ابھی بیان کیا اس کی بعثت جو خلق اللہ کی شامت اعمال کا موجب ہوئی ہے اس عذاب کا باعث اس صورت میں ہو جاتی ہے جب وہ رجوع الی اللہ نہ کریں تو اس عذاب کا علاج اور مداوا وہی مسیحا ہوسکتا ہے جس کی آمد کا وہ ایک نتیجہ ہے۔اس وقت بھی موجودہ تدابیر انسداد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ طاعون اس وقت تک دور نہیں ہونے کی جب تک اس کے مداوا اور علاج پر غور نہ کی جائے گی جو فطرت انسانی بھی بتلاتی ہے کہ تو بہ اور رجوع الی اللہ کیا جاوے کیوں کہ عام طور پر جب کوئی مصیبت اور بلا آتی ہے تو خواہ مخواہ انسان کے اندر ایک بے چین کرنے والی حرکت پیدا ہو جاتی لی الاعراف: ۹۵