حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 55
حیات احمد ۵۵ جلد پنجم حصہ اول ہے جو انسان کو رجوع الی اللہ کا سبق دیتی ہے پس جیسے یہ امر بالکل طبعی ہے کہ انسان و با اور ہیبت ناک مری کے دنوں میں خواہ نخواہ اس گھر اور گاؤں کو جہاں وہ رہتا ہے چھوڑنا چاہتا ہے۔جو ہماری گورنمنٹ کی مجوزہ تدابیر کا منشاء ہے وہاں ساتھ ہی اپنے اندر انکساری اور تذلل کا خیال بھی پاتا ہے جو اسے تَوْبَةُ النُّصُوح کی طرف رہبری کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ اس سے فائدہ اٹھا دے اور یہی سید نا مرزا صاحب کا منشاء ہے جو اُن پر ظاہر ہوا۔امر دوم کی نسبت ہم اس قدر کہیں گے کہ یہ مادہ پرست اقوام کا خیال ہوسکتا ہے کہ ایسی باتیں عام حالت موجودہ کو دیکھ کر ایک معمولی آدمی بھی کہہ سکتا ہے۔یہ بات خوب یا در کھنے کے قابل ہے کہ اگر عام قیافہ شناسی اور موقع بینی اپنے مقصد میں کامیاب کر دینے والی ہوتی ہے۔تو ذرا ایڈیٹر صاحب توجہ فرما ئیں اور ایڈیٹوریل میز کے سامنے بیٹھ کر سوچیں کہ بمبئی سے چھلانگ مار کر وباء کو کھٹکر کلاں ہی پہنچنا تھا۔جہاں بمبئی کا کوئی کارڈ تک بھی نہیں جاتا ہوگا، چہ جائے کہ کوئی وباء زدہ آدمی اس مرض کو وہاں پہنچاتا اور پھر وہاں سے ضلع ہوشیار پور میں جاتی اور پھگواڑہ کو پاس سے چھوڑ جاتی۔اور اگر انسانی دانش اور عام فر است ان باتوں کی تہہ تک پہنچ سکتی تو ایڈیٹر صاحب کی دانش وفراست سے بھی بڑھی ہوئی گورنمنٹ کے لائق اور دقیقہ رس میڈیکل آفیسر زا اپنی تدابیر میں ذرا بھی فیل نہ ہوتے۔اور گورنمنٹ کو اس قدر تذبذب اور ہراساں نہ ہونا پڑتا جواب اس کو اپنی رعایا کی بُری حالت دیکھ کر ہونا پڑا اور لکھو کہا روپیہ کا خرچ کرنا پڑاوہ نہ کرنا پڑتا ، پیسہ اخبار ہی گورنمنٹ اور ملک پر رحم کرے اور اپنے گیارہ سالہ تجربہ سے کوئی ٹوٹکا بتلاوے جس سے یہ وبا دور ہو اور پھر ملک بھر سے دعا ئیں اور گورنمنٹ سے خطاب واعزاز لے مگر نہیں یہ نہیں ہو گا جب تک دلوں کی صفائی اور نیت بخیر نہ ہوگی۔امر ثالث کی نسبت ہم حیران ہیں کیا کہیں اور کیا نہ کہیں پیسہ اخبارسا دانشمند ایڈیٹر