حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 53 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 53

حیات احمد ۵۳ جلد پنجم حصہ اول حالتوں نے اور خود ضلع جالندھر کے وباء زدہ دیہات اور بقول پیسہ اخبار ہی ان انسداد کی تدابیر نے کچھ فائدہ نہیں پہنچایا۔اب اگر وہاء کو آسمانوں سے کوئی تعلق نہ تھا تو پیسہ اخبار ( جو قانونِ اسباب کو نہایت عزت اور وقعت کی نظر سے دیکھتا ہے ) ہی بتلاوے کہ کیوں کامیابی اور پھر پوری کامیابی نہیں ہوتی اور وباء کے پھیلنے کے اندیشہ کا دامن دراز ہی ہوتا جاتا ہے۔اس سے غور کرنے والوں کے لئے یہ بات پیدا ہوسکتی ہے بشرطیکہ وہ تدبر کریں کہ یہ عذاب الہی ہے جو شامت اعمال سے پیدا ہوا ہے اور اس کا پتہ وہی یقینی طور پر دے سکتا ہے جو آسمانی فراست اور سماوی قیافہ اپنے اندر رکھتا ہو ارضی اور سطحی فراست کا اگر یہ کام ہوتا تو اب تک اس قدر تدابیر میں کامیابی ہوگئی ہوتی۔پیسہ اخبار کو خصوصاً اور عوام کو عموماً معلوم ہو کہ سماوی عذاب بلا وجہ نہیں ہوتے جیسا ہم نے اپنے سب سے پہلے آرٹیکل میں ظاہر کیا ہے ان کی وجہ نفس الامر میں انسان کی بد اعمالیاں ہی ہوتی ہیں اور اس پر اضافہ اور طرہ کسی مامور کی بعثت ہو جایا کرتی ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایاهَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا یعنی عَذَاب الہی آنے سے پیشتر کسی مامور کی بعثت ضرور ہوتی ہے۔عذاب الہی اور بعثت مامور دو لازم ملزوم امر ہوتے ہیں اور اگر یہ سوال پیدا ہو کہ مامور رحمتِ الہیہ کا مظہر ہوتے ہیں نہ عذاب الہی کا موجب ؟ تو آپ کو اس کے جواب میں یادرکھنا چاہیے کہ اُس کا وجود رحمت الہی ہی کا تو مظہر ہوتا ہے کیوں کہ وہی آن کر یہ بتلاتا ہے کہ عذاب الہی آنے والا ہے تو بہ اور استغفار سے بچ جاؤ اگر بچنا چاہتے ہو پھر استہزا کرنے والے پکڑے جاتے ہیں اور سعادت مند امتیاز حاصل کر کے بچ جاتے ہیں۔اور چونکہ اس کی بعثت لازم ہوتی ہے دنیا کے اعمال بد کو۔کیوں کہ اگر کسی چیز کی اصلاح مقصود نہ ہو اور کوئی چیز قابل اصلاح بھی نہ ہوتو پھر مامور کے مبعوث ہونے کی حاجت ہی کیا ہو؟ پس یہ اللہ کریم کا خاص فضل بنی اسرائیل: ۱۶