حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 38 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 38

حیات احمد ۳۸ جلد پنجم حصہ اول نے ان کے اس بیان پر انکار نہ کیا۔پھر ماسوا اس کے امام مالک جیسا امام عالم حدیث و قرآن و متقی اس بات کا قائل ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ایسا ہی امام ابن حزم جن کی جلالت شان محتاج بیان نہیں قائل وفات مسیح ہیں۔اسی طرح امام بخاری جن کی کتاب بعد کتاب الله اَصَحُ الكُتب ہے وفات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ایسا ہی فاضل ومحدّث و مفسر ابن تیمیه و ابن قیم جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔ایسا ہی رئیس المتصو فین شیخ محی الدین ابن العربی صریح اور صاف لفظوں سے اپنی تفسیر میں وفات حضرت عیسی علیہ السلام کی تصریح فرماتے ہیں۔اسی طرح اور بڑے بڑے فاضل اور محدث اور مفسر برابر یہ گواہی دیتے آئے ہیں اور فرقہ معتزلہ کے تمام اکابر اور امام یہی مذہب رکھتے ہیں پھر کس قدر افترا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا زندہ آسمان پر جانا اور پھر واپس آنا اجماعی عقیدہ قرار دیا جائے۔بلکہ یہ اُس زمانہ کے عوام الناس کے خیالات ہیں جبکہ ہزار ہا بدعات دین میں پیدا ہوگئی تھیں اور یہ وسط کا زمانہ تھا جس کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیج اعوج رکھا ہے اور فیج اعوج کے لوگوں کی نسبت فرمایا ہے کہ لیـــوا مــــــی وَلَسْتُ مِنْهُمُ یعنی نہ وہ مجھ سے ہیں اور نہ میں ان میں سے ہوں۔ان لوگوں نے اس عقیدہ کو اختیار کرنے سے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر چلے گئے اور وہاں قریباً انیس سو برس سے زندہ جسم عنصری موجود ہیں اور پھر کسی وقت زمین پر آئیں گے قرآن شریف کی چار جگہ مخالفت کی ہے۔اول یہ کہ قرآن شریف صریح لفظوں سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ظاہر فرماتا ہے جیسا کہ بیان ہوا اور یہ لوگ ان کے زندہ ہونے کے قائل ہیں۔دوسرے یہ کہ قرآن شریف صاف اور صریح لفظوں میں فرماتا ہے کہ کوئی انسان بجز زمین کے کسی اور جگہ زندہ نہیں رہ سکتا۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ کے یعنی تم زمین میں الاعراف: ٢٦