حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 37 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 37

حیات احمد ۳۷ جلد پنجم حصہ اول ہیں ہزار روپیہ کا انعام کتاب البریہ صرف مقدمہ مارٹن کلارک ہی کی روئداد نہیں بلکہ اس میں عیسائی عقائد پر نہایت لطیف تنقید بھی ہے اور مسلمانوں کے اس غلط عقیدہ پر بھی بحث کی ہے جو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کے متعلق رکھتے ہیں اور اس عقیدہ کے باطل ہونے پر اس قوت اور جرات سے بحث کی ہے کہ اس پر بیس ہزار روپیہ کا انعام مقر ر کیا کہ اگر کوئی یہ ثابت کر دے که احادیث میں مسیح کے آسمان سے نازل ہونے کا ذکر ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔اب جس حالت میں قرآن شریف کے صاف لفظوں سے حضرت عیسی علیہ السلام کی موت ہی ثابت ہوتی ہے اور دوسری طرف قرآن شریف آنحضرت ﷺ کا نام خاتم النبین رکھتا ہے اور حدیث ان دونوں باتوں کی مصدق ہے اور ساتھ ہی حدیث نبوی یہ بھی بتلا رہی ہے کہ آنے والا مسیح اس امت میں سے ہوگا گوکسی قوم کا ہو تو اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ باوجود ایسی نصوص صریح کے جو حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات اور آنے والے مسیح کے امتی ہونے پر دلالت کرتی تھیں پھر کیوں اس بات پر اجماع ہو گیا کہ در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام آخری زمانہ میں آسمان سے اتر آئیں گے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس امر میں جو شخص اجماع کا دعوی کرتا ہے وہ سخت نادان یا سخت خیانت پیشہ اور دروغ گو ہے۔کیونکہ صحابہ کو اس پیشگوئی کی تفاصیل کی ضرورت نہ تھی وہ بلا شبہ بموجب آیت فَلَمَّا تَوَ فَيْتَنِی اس بات پر ایمان لاتے تھے کہ حضرت عیسی فوت ہو چکے ہیں تبھی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت اس بات کا احساس کر کے کہ بعض لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میں شک رکھتے ہیں زور سے یہ بیان کیا کہ کوئی بھی نبی زندہ نہیں ہے سب فوت ہو گئے۔اور یہ آیت پڑھی کہ قدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اور کسی ال عمران: ۱۴۵