حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 39 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 39

حیات احمد ۳۹ جلد پنجم حصہ اوّل ہی زندہ رہو گے اور زمین میں ہی مرو گے اور زمین سے ہی نکالے جاؤ گے۔مگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ نہیں اس زمین اور گرہ ہوا سے باہر بھی انسان زندہ رہ سکتا ہے۔جیسا کہ اب تک جو قریباً انیسویں صدی گزرتی ہے حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں حالانکہ زمین پر جو قرآن کے رو سے انسانوں کے زندہ رہنے کی جگہ ہے باوجود زندگی کے قائم رکھنے کے سامانوں کے کوئی شخص انہیں سو برس تک ابتدا سے آج تک کبھی زندہ نہیں رہا تو پھر آسمان پر انیس سو برس تک زندگی بسر کرنا باوجود اس امر کے کہ قرآن کے رو سے ایک قدر قلیل بھی بغیر زمین کے انسان زندگی بسر نہیں کر سکتا کس قدر خلاف نصوص صریح قرآن ہے جس پر ہمارے مخالف ناحق اصرار کر رہے ہیں۔تیسرے یہ کہ قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ کسی انسان کا آسمان پر چڑھ جانا عادۃ اللہ کے مخالف ہے جیسا کہ فرماتا ہے قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا لیکن ہمارے مخالف حضرت عیسی کو ان کے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھاتے ہیں۔چوتھے یہ کہ قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ آنحضرت عله خاتم لانبیاء ہیں مگر ہمارے مخالف حضرت عیسی علیہ السلام کو خاتم الانبیاء ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو صحیح مسلم وغیرہ میں آنے والے مسیح کونبی اللہ کے نام سے یاد کیا ہے وہاں حقیقی نبوت مراد ہے۔اب ظاہر ہے کہ جب وہ اپنی نبوت کے ساتھ دنیا میں آئے تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیوں کر خاتم الانبیاء پھہر سکتے ہیں ؟ نبی ہونے کی حالت میں حضرت عیسی علیہ السلام نبوت کے لوازم سے کیونکر محروم ہو سکتے ہیں ! غرض ان لوگوں نے یہ عقیدہ اختیار کر کے چار طور سے قرآن شریف کی مخالفت کی ہے اور پھر اگر پوچھا جائے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے جسم عصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے ؟ تو نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں اور نہ کوئی بنی اسرائیل : ۹۴