حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 36 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 36

حیات احمد ۳۶ جلد پنجم حصہ اوّل ایک میموریل تیار کر کے اور مسلمانانِ ہند کے اکابر کے دستخط لے کر وائسرائے وقت لارڈ ایلچن کو پیش کیا جس میں آپ نے تحریر فرمایا۔”ہندوستان کے ملک میں فتنہ وفساد کا باعث بہت حد تک مذہبی جھگڑے ہیں۔ان کے نتیجہ میں جو شورش لوگوں کے قلوب میں پیدا ہوتی ہے اس سے نہ صرف یہ کہ فرقہ وارانہ فساد ملک میں پھیل کر بدامنی کا موجب ہوتے ہیں بلکہ بعض شریر لوگ گورنمنٹ کے خلاف بھی انہی امور کے پردہ میں سڈیشن پھیلاتے ہیں۔پس قانون سڈیشن میں جو اسی سال پاس ہوا ہے مذہبی سخت کلامی کو بھی داخل کرنا چاہیے اس کے لئے آپ نے تین تجاویز پیش کیں (۱) اول یہ کہ ایک قانون پاس کر دینا چاہیے کہ ہر مذہب کے پیرو اپنے مذہب کی خوبیاں تو بے شک بیان کریں لیکن دوسرے مذہب پر حملہ کرنے کی ان کو اجازت نہ ہوگی۔اس قانون سے نہ تو مذہبی آزادی میں فرق آوے گا اور نہ کسی خاص مذہب کی طرف داری ہوگی اور کوئی وجہ نہیں کہ کسی مذہب کے پیرو اس بات پر نا خوش ہوں کہ ان کو دوسرے مذاہب پر حملہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی (۲) اگر یہ طریق منظور نہ ہو تو کم سے کم یہ کیا جائے کہ کسی مذہب پر ایسے حملہ کرنے سے لوگوں کو روک دیا جائے جو خود ان کے مذہب پر پڑتے ہوں یعنی اپنے مخالف کے خلاف وہ ایسی باتیں پیش نہ کریں جو خودان کے مذہب میں بھی موجود ہیں (۳) اگر یہ بھی نا پسند ہو تو گورنمنٹ ہر ایک مذہب کے نمائندوں سے دریافت کر کے ان کی مسلمہ مذہبی کتب کی ایک فہرست تیار کرے اور یہ قانون پاس کر دیا جائے کہ کسی مذہب پر اس کی ان مسلّمہ کتابوں سے باہر کوئی اعتراض نہ کیا جاوے کیونکہ جب اعتراضات کی بنیا دصرف خیالات یا جھوٹی روایات پر ہو جنہیں اس مذہب کے پیرو تسلیم ہی نہیں کرتے تو پھر ان کی رو سے اعتراض کرنے کا نتیجہ باہمی بغض و عداوت میں ترقی کرنے کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔“ اگر چه حکومت نے اس وقت توجہ نہ کی مگر بالآخر حکومت کو ایک دفعہ کا اضافہ کرنا پڑا جو مختلف فرقوں میں منافرت پھیلانے والوں کو قابل تعزیر قرار دیتی ہے اور آئے دن اس اس قسم کے مقدمات ہوتے اور مجرم سزا پاتے ہیں۔