حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 465
حیات احمد جلد پنجم حصہ اول اور حدیث میں نہیں پایا اور نہ کسی لغت کی کتاب میں دیکھا۔اس کے معنے میرے پر یہ کھولے گئے کہ یا لَا شَرِیک اس کے نام کے الہام سے یہ غرض ہے کہ کوئی انسان کسی ایسی قابل تعریف صفت یا اسم یا کسی فعل سے مخصوص نہیں ، جو وہ صفت یا اسم یا فعل کسی دوسرے میں نہیں پایا جاتا۔یہی سر ہے جس کی وجہ سے ہر ایک نبی کی صفات اور معجزات اظلال کے رنگ میں اُس کی امت کے خاص لوگوں میں ظاہر ہوتی ہیں جو اس کے جوہر سے مناسبت تامہ رکھتے ہیں تا کسی خصوصیت کے دھوکہ میں جہلائے امت کے کسی نبی کو لاشریک نہ ٹھہرائیں۔یہ سخت کفر ہے جو کسی نبی کو یلاش کا نام دیا جائے۔“ (تحفہ گولڑویہ صفحہ ۶۹ حاشیہ۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۲۰۳ ۲۰۴) کشفی طور پر ایک مرتبہ مجھے ایک شخص دکھایا گیا۔گویا وہ سنسکرت کا ایک عالم آدمی ہے جو کرشن کا نہایت درجہ معتقد ہے۔وہ میرے سامنے کھڑا ہوا اور مجھے مخاطب کر کے بولا کہ ” ہے روڈر گوپال تیری استت گیتا میں لکھی ہے۔اسی وقت میں نے سمجھا کہ تمام دنیا ایک روڈ ر گوپال کا انتظار کر رہی ہے کیا ہندو اور کیا مسلمان اور کیا عیسائی۔مگر اپنے اپنے لفظوں اور زبانوں میں اور سب نے یہی وقت ٹھہرایا ہے۔اور اس کی یہ دونوں صفتیں قائم کی ہیں۔یعنی سوروں کو مارنے والا اور گائیوں کی حفاظت کرنے والا۔اور وہ میں ہوں جس کی نسبت ہندوؤں میں پیشگوئی کرنے والے قدیم سے زور دیتے آئے ہیں کہ وہ آریہ ورت میں ، یعنی اسی ملک ہند میں پیدا ہوگا اور انہوں نے اس کے مسکن کے نام بھی لکھے ہیں مگر وہ تمام نام استعارہ کے طور پر ہیں جن کے نیچے ایک اور حقیقت ہے۔“ (تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۳۰ حاشیہ۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۳۱۷ تا ۳۱۸۔تذکره صفحه ۳۱۱ مطبوع ۲۰۰۴ء) خدا تعالیٰ نے کشفی حالت میں بارہا مجھے اس بات پر اطلاع دی ہے کہ آریہ قوم میں کرشن نام ایک شخص جو گزرا ہے وہ خدا کے برگزیدوں اور اپنے وقت کے نبیوں