حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 466
حیات احمد ۴۶۶ جلد پنجم حصہ اول میں سے تھا اور ہندوؤں میں اوتار کا لفظ در حقیقت نبی کے ہم معنی ہے۔اور ہندوؤں کی کتابوں میں ایک پیشگوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار آئے گا جو کرشن کے صفات پر ہوگا اور اس کا بروز ہوگا اور میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ میں ہوں۔کرشن کی دو صفت ہیں۔ایک روڈ ریعنی درندوں اور سُوروں کو قتل کرنے والا۔یعنی دلائل اور نشانوں سے۔دوسرے گوپال یعنی گائیوں کو پالنے والا یعنی اپنے انفاس سے نیکوں کا۔مددگار۔اور یہ دونوں صفتیں مسیح موعود کی صفتیں ہیں اور یہی دونوں صفتیں خدا تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی ہیں۔“ (تحفہ گولڑو یه صفحه ۱۳۰ حاشیہ در حاشیہ۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۳۱۷ حاشیہ۔تذکرہ صفحہ ۳۱ مطبوع ۲۰۰۴ء)۔ایک دفعہ مجھے مرض ذیا بیطس کے سبب بہت تکلیف تھی۔کئی دفعہ سوسو مرتبہ دن میں پیشاب آتا تھا۔دونوں شانوں میں ایسے آثار نمودار ہو گئے جن سے کاربنکل کا اندیشہ تھا۔تب میں دعا میں مصروف ہوا تو یہ الہام ہوا۔وَالْمَوْتِ إِذَا عَسْعَسَ یعنی قسم ہے موت کی جبکہ ہٹائی جائے۔چنانچہ یہ الہام بھی ایسا پورا ہوا کہ اُس وقت سے لے کر ہمیشہ ہماری زندگی ہر ایک سیکنڈ ایک نشان ہے۔فرمایا:۔نزول مسیح صفحه ۲۳۵۔روحانی خزائن جلد ۱۸صفحه ۶۱۳) کیا دیکھتا ہوں۔کہ محمود کی والدہ آئی ہیں اور ان کے ہاتھ میں ایک جوتی ہے اور مجھ سے کہتی ہیں یہ نئی جوتی آپ پہن لیں اور پھر میرے ہاتھ میں دے کر کہا یہ جوتی آپ کے لئے ہے پہن لیجئے ، دشمن زیر ہے۔“ از چٹھی مولانا مولوی عبدالکریم صاحب مندرجہ الحکم پر چه ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۰، صفحه۲۔تذکره صفحه ۳۱۳ مطبوعه ۲۰۰۴ء) ا صبح کو فرمایا۔”بہت دفعہ ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ پیغمبر خداﷺ ایک بات جتلاتے ہیں۔میں اس کو سنتا ہوں۔مگر آپ کی صورت نہیں دیکھتا ہوں غرض یہ ایک