حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 464
حیات احمد ۴۶۴ جلد پنجم حصہ اول الرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ وَلَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ( اربعین نمبر ۳ صفحہ ۷۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۳۵۴)۔خدا نے اسے سکھلایا اور بغیر اُن کے جو پاک کئے جاتے ہیں کسی کو علم قرآن نہیں دیا جاتا۔اللَّهُ حَافِظُهُ، عِنَايَةُ اللهِ حَافِظُهُ۔نَحْنُ نَزَّلْنَاهُ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ، اللَّهُ خَيْرٌ حَافِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ اربعین نمبر ۲ صفحہ ۸۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۳۵۵) خدا اس کا نگہبان ہے۔خدا کی عنایت اس کی نگہبان ہے ہم نے اس کو اتارا اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں خدا بہتر نگہبانی کرنے والا ہے اور وہ رحمان اور رحیم ہے۔(0) تحفہ گولڑویہ میں بڑے بڑے دقائق معارف بیان فرمائے ہیں۔آج فرماتے تھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک الہام ہوا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ یہ رسالہ بڑا بابرکت ہوگا۔اسے پورا کرو۔اور پھر الہام قُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا “ از مکتوب مولا نا عبدالکریم صاحب مورخه ۳ ستمبر۱۹۰۰، مندرجه الحکم ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۶ صفحه۹۔تذکر صفحه ۳۰۹ مطبوعه ۲۰۰۴ء) (ب) اس رسالہ میں عجیب عجیب نکات واسرار لکھے جا رہے ہیں اور اس تحفہ کی نسبت یہ وحی حضرت اقدس پر نازل ہو چکی ہے کہ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔“ وو الحاکم جلد نمبر ۳۴ صفحه، اپر چہ مورخہ ۱۰ ستمبر ۱۹۰۰ء۔تذکره صفحه ۳۱۰ مطبوعه ۲۰۰۴ء) حضرت کو کل در دسر کے وقت بار بار یہ الہام ہوا۔إِنِّي مَعَ الْأُمَرَاءِ اتِيكَ بَغْتَةً“ ( از مکتوب مولا نا عبدالکریم صاحب مورخه ۸ ستمبر ۱۹۰ ء مندرجه الحکم جلد نمبر ۳۵ صفحه ۱۰) اسی مضمون کے لکھنے کے وقت خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ ”یلاش خدا کا ہی نام ہے۔یہ ایک نیا الہامی لفظ ہے کہ اب تک میں نے اس کو اس صورت پر قرآن