حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 463
حیات احمد ۴۶۳ جلد پنجم حصہ اول مہدی معہود اور اندرونی و بیرونی اختلافات کا حکم ہوں“۔اربعین نمبر اول صفحہ ۳۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۳۴۵۔مورخہ ۳ / جولائی ۱۹۰۰ء) ۲۱ جولائی سے چند ماہ قبل۔چند ماہ کا عرصہ گزرتا ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کو الہام ہوا تھا۔الْأَمْرَاضُ تُشَاعُ وَالنُّفُوسُ تُضَاعُ۔۔۔ایسا ہی إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ الحکم جلد نمبر ۲۹ صفحه، اپر چه مورخه ۱۶ اگست ۱۹۰۰ء) ۱۷ اگست ۱۹۰۰ء سے قبل : إِذَا نَصَرَ اللهُ الْمُؤْمِنَ جَعَلَ لَهُ الْحَاسِدِينَ فِي الْأَرْضِ۔قُلْ هُوَ اللهُ ثُمَّ ذَرُهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ۔اربعین نمبر ۲ صفحہ ۷۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۳۵۳) جب خدا تعالیٰ اپنے کسی بندے کی مددکرتا ہے اور اس کو اپنے برگزیدوں میں داخل کر لیتا ہے تو زمین پر کئی حاسد اس کے لئے مقرر کر دیتا ہے۔یہی سنت اللہ ہے۔پس ان کو کہہ دے کہ میں تو کچھ چیز نہیں مگر خدا نے ایسا ہی کیا۔پھر ان کو چھوڑ دے کہ تا بیہودہ فکروں میں پڑے رہیں۔ترجمه از روحانی خزائن جلدی اصفه ۳۶۳) لا ترجمہ۔یعنی بیماریاں پھیلیں گی اور جانیں ضائع ہوں گی۔اس الہامی پیشگوئی کے مطابق ملک میں دباء ہیضہ وغیرہ جس شدت کے ساتھ پھیلے ہیں اور جس قدر جانیں ان کی نذر ہوئیں ہیں وہ کوئی مخفی امر نہیں۔یہ الہام ایسے وقت میں ہوا تھا جبکہ ابھی ہیضہ وغیرہ امراض کا پنجاب میں نام ونشان نہ تھا ایسا ہی إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اَلِيْهِ رَاجِعُونَ کا بھی الہام ہوا تھا۔جس سے حضرت اقدس کے کسی مخلص دوست کا پتہ ملتا تھا۔آخر یہ ساری باتیں جو خدائے علیم کا کلام تھا اپنے وقت پر پوری ہوئیں اور ان الہامات کے موافق ہماری جماعت کے بعض نہایت مخلص اور پُر جوش دوست ہم سے علیحدہ ہوئے۔ازاں جملہ میاں محمد اکبر صاحب ٹھیکیدار ساکن بٹالہ ہیں جو اس الہام کے موافق فوت ہوئے۔(الحکم ۱۶ اگست ۱۹۰۰ء صفحہ ۱) تذکرہ میں یہ الہام ۲ مارچ ۱۹۰۰ ء کے تحت دیا گیا ہے ملاحظہ ہوتذکرہ صفحہ ۲۸۹ مطبوعہ ۲۰۰۴ ء ( ناشر )