حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 462
حیات احمد ۴۶۲ جلد پنجم حصہ اول اقبال میں خیال کرتا ہوں کہ آخر سطر میں یہ لفظ لکھنے سے انجام کی طرف اشارہ تھا۔یعنی انجام با قبال ہے۔پھر ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔قادر کے کاروبار نمودار ہو گئے کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے اس کے یہ معنے مجھے سمجھائے گئے کہ عنقریب کچھ ایسے زبر دست نشان ظاہر ہو جائیں گے۔جس سے کافر کہنے والے جو مجھے کافر کہتے تھے الزام میں پھنس جائیں گے اور خوب پکڑے جائیں گے اور کوئی گریز کی جگہ ان کے لئے باقی نہیں رہے گی۔یہ ایک پیشگوئی ہے ہر ایک پڑھنے والا اس کو یا در کھے۔(اشتہار مشمولہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۲۶۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۷۷ ) اس کے بعد ۳ / جون ۱۹۰۰ء کو بوقت ساڑھے گیارہ بجے الہام ہوا۔کافر جو کہتے تھے وہ نگوسار ہو گئے جتنے تھے سب کے سب ہی گرفتار ہو گئے یعنی کا فر کہنے والوں پر خدا کی حجت ایسی پوری ہوگی کہ ان کے لئے کوئی عذر کی جگہ نہ رہی۔یہ آئندہ زمانہ کی خبر ہے کہ عنقریب ایسا ہوگا اور کوئی ایسی چمکتی ہوئی دلیل ظاہر ہو جائے گی کہ فیصلہ کر دے گی“۔از اشتہارے جون ۱۹۰۰ء ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۲۷۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۷۷ ) ہ ”مجھے بتلایا گیا کہ تمام دینوں میں سے دین اسلام ہی سچا ہے۔مجھے فرمایا گیا ہے کہ تمام ہدایتوں میں سے صرف قرآنی ہدایت ہی صحت کے کامل درجہ پر اور انسانی ملاوٹوں سے پاک ہے۔مجھے سمجھایا گیا ہے کہ تمام رسولوں میں سے کامل تعلیم دینے والا اور اعلیٰ درجہ کی پاک اور پُر حکمت تعلیم دینے والا اور انسانی کمالات کو اپنی زندگی کے ذریعہ سے اعلیٰ نمونہ دکھلانے والا صرف حضرت سیّدنا ومولانا محمد مصطفے ﷺے ہیں اور مجھے خدا کی پاک اور مطہر وحی سے اطلاع دی گئی ہے کہ میں اس کی طرف سے مسیح موعود اور