حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 450 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 450

حیات احمد ۴۵۰ جلد پنجم حصہ اول دوستوں کے لئے درحقیقت قابلِ رشک ہیں۔ایک ان میں سے منشی عبدالعزیز نام ضلع گورداسپور میں پٹواری ہیں جنہوں نے باوجود اپنی کم سرمائیگی کے ایک سورو پید اس کام کے لئے چندہ دیا ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ سوروپیہ کئی سال کا ان کا اندوختہ ہوگا۔اور زیادہ وہ بھی قابل تعریف اس سے بھی ہیں کہ ابھی وہ ایک اور کام میں سورو پہیہ چندہ دے چکے ہیں اور اب اپنے عیال کی بھی چنداں پروا نہ رکھ کر یہ چندہ پیش کر دیا۔جَزَاهُمُ اللَّهُ خَيْرَ الجَزَاءِ دوسرے مخلص جنہوں نے اس وقت بڑی مردانگی دکھلائی ہے میاں شادی خاں لکڑی فروش ساکن سیالکوٹ ہیں۔ابھی وہ ایک کام میں ڈیڑھ سوروپیہ چندہ دے چکے ہیں۔اور اب اس کام کے لئے دوسور و پیہ چندہ بھیج دیا ہے۔اور یہ وہ متوکل شخص ہے کہ اگر اس کے گھر کا تمام اسباب دیکھا جائے تو شاید تمام جائیداد پچاس روپیہ سے زیادہ نہ ہو۔انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ چونکہ ایام تحط ہیں اور دنیاوی تجارت میں صاف تباہی نظر آتی ہے تو بہتر ہے کہ ہم دینی تجارت کر لیں“۔اس لئے جو کچھ اپنے پاس تھا سب کچھ بھیج دیا۔اور درحقیقت وہ کام کیا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۴۲۲، ۴۲۳ طبع بار دوم ) جیسا کہ حضرت مولوی شادی خاں صاحب کے خط میں ظاہر کیا گیا ہے مجھے ذاتی علم ہے کہ انہوں نے گھر کا سارا اثاثہ فروخت کر دیا تھا۔جَزَاهُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ خاکسار عرفانی بھی اللہ تعالیٰ کے احسان و فضل کا شکر ادا نہیں کر سکتا کہ اسے بھی حضرت کے ارشاد کی تعمیل کی سعادت نصیب ہوئی نہ صرف اس وقت بلکہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے عصر خلافت میں بھی اس تحریک میں اپنی اور اپنے خاندان کی طرف سے مزید رقوم داخل کرنے کی توفیق عطا ہوئی۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ۔