حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 449 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 449

حیات احمد ۴۴۹ جلد پنجم حصہ اول منارة المسیح اور خاص گروہ یہ جماعت کا ابتدائی دور تھا اور جماعت میں جیسا کہ سنت اللہ ہے ابتداء غربا ہی کو قبول حق کی توفیق ملتی ہے۔اکثریت غربا کی تھی اس لئے چندہ کی رفتار بہت سست اور حضرت چاہتے تھے کہ کام جلد شروع ہو جائے اس لئے آپ نے جماعت میں سے ایک سو مخلص کا انتخاب فرمایا اور اسے اپنی جماعت کا خاص گروہ قرار دیا اور یکم جولائی ۱۹۰۰ء کو ایک اعلان کے ذریعہ ان کے متعلق اظہار فرمایا کہ ہر ایک ان میں سے ایک ایک سورو پیہ منارہ مسیح کے چندہ میں داخل کرے اور دو مخلص احباب کے لئے آپ نے فرمایا کہ وہ دونوں مل کر ایک سو داخل کریں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان مخلصین کو توفیق سعادت بخشی اور انہوں نے اپنے امام کے حکم پر یہ رقم داخل کر دی اور ان میں بعض ایسے بھی بزرگ تھے جو دنیوی حیثیت کے لحاظ سے ایک سو بھی نہیں دے سکتے تھے مگر ان کے اخلاص کا مقام بہت بلند ہے۔حضرت اقدس نے ان کا ذکر خیر خود فرمایا ہے میں اسے یہاں درج کر دینا ضروری سمجھتا ہوں فرماتے ہیں۔منارۃ المسیح کے بارے میں اس سے پہلے ایک اشتہار شائع ہو چکا ہے لیکن جس کمزوری اور کم تو جہی کے ساتھ اس کام کے لئے چندہ وصول ہو رہا ہے اس سے ہرگز یہ امید نہیں کہ یہ کام انجام پذیر ہو سکے۔لہذا میں آج خاص طور سے اپنے اُن مخلصوں کو اس کام کے لئے توجہ دلاتا ہوں جن کی نسبت مجھے یقین ہے کہ اگر وہ سچے دل سے کوشش کریں اور جیسا کہ اپنے نفس کے اغراض کے لئے اور اپنے بیٹوں کی شادیوں کے لئے پورے زور سے انتظام سرمایہ کر لیتے ہیں ایسا ہی انتظام کریں تو ممکن ہے کہ یہ کام ہو جائے۔اگر انسان کو ایمانی دولت سے حصہ ہو تو گو کیسے ہی مالی مشکلات کے شکنجہ میں آ جائے تاہم وہ کارخیر کی توفیق پالیتا ہے۔نظیر کے طور پر بیان کرتا ہوں کہ ان دنوں میں میری جماعت میں سے دو ایسے مخلص آدمیوں نے اس کام کے لئے چندہ دیا ہے جو باقی