حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 425 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 425

حیات احمد ۴۲۵ جلد پنجم حصہ اول ☆ الہی سے ہے لیکن یہ حلف اُس حلف سے مشابہ ہونی چاہیے جس کا ذکر قرآن میں قذف مُحسنات کے باب میں ہے جس میں تین دفعہ قسم کھانا ضروری ہے اور دونوں فریق پر یہ واجب اور لازم ہوگا کہ ایسی تفسیر جس کا ذکر کیا گیا ہے کسی حالت میں ہیں ورق سے کم نہ ہو۔اور ورق سے مراد اس اوسط درجہ کی تقطیع اور قلم کا ورق ہوگا جس پر پنجاب اور ہندوستان کے صد با قرآن شریف کے نسخے چھپے ہوئے پائے جاتے ہیں پس اس طرز کے مباحثہ اور اس طرز کے تین مولویوں کی گواہی سے اگر ثابت ہو گیا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب تفسیر اور عربی نویسی میں تائید یافتہ لوگوں کی طرح ہیں اور مجھ سے کام نہ ہوسکا مگر انہوں نے بھی میرے مقابلہ پر ایسا ہی کر دکھایا تو تمام دنیا گواہ رہے کہ میں اقرار کروں گا کہ حق پیر مہر شاہ کے ساتھ ہے اور اس صورت میں میں یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ اپنی تمام کتابیں جو اس دعوی کے متعلق ہیں جلا دوں گا اور اپنے تئیں مخذول اور مردود سمجھ لوں گا۔میری طرف سے یہی تحریر کافی ہے جس کو میں آج بہ ثبت شہادت ہیں گواہان کے اس وقت لکھتا ہوں لیکن اگر میرے خدا نے اس مباحثہ میں مجھے غالب کردیا اور مہر علی شاہ صاحب کی زبان بند ہوگئی نہ وہ فصیح عربی پر قادر ہو سکے اور نہ وہ حقائق و معارف سورۃ قرآنی میں کچھ لکھ سکے یا یہ کہ اس مباحثہ سے انہوں نے انکار کر دیا تو ان تمام صورتوں میں ان پر واجب ہوگا کہ وہ تو بہ کر کے مجھ سے بیعت کریں اور لازم ہوگا کہ یہ اقرار صاف صاف لفظوں میں بذریعہ اشتہار دس دن کے عرصہ میں شائع کر دیں۔میں مکر رلکھتا ہوں کہ میرا غالب رہنا اسی صورت میں متصور ہوگا کہ جبکہ مہر علی شاہ صاحب بجز ایک ذلیل اور رکیک اور قابل شرم عبارت اور لغو تحریر کے کچھ بھی نہ لکھ سکیں اور ایسی تحریر کریں جس پر اہل علم تھوکیں اور نفرین کریں کیونکہ میں نے خدا سے یہی دعا کی ہے کہ وہ ایسا ہی کرے اور میں یہ جانتا ہوں کہ وہ ایسا ہی کرے گا۔اور اگر مہر علی شاہ بھی اپنے تئیں جانتے ہیں کہ وہ مومن اور مستجاب الدعوات ہیں تو وہ بھی ایسی دعا کریں اور یادر ہے کہ خدا تعالیٰ ان کی دعا ہرگز قبول نہیں کرے گا کیونکہ وہ خدا کے مامور اور مرسل کے دشمن ہیں اس لئے آسمان پر ان کی عزت نہیں۔کافی ہو گا جو ہمیں ورق کا اندازہ اس قرآن کے ساتھ کیا جائے جو حال ہی میں مولوی نذیر احمد خان صاحب دہلوی نے چھپوایا ہے۔منہ