حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 424 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 424

حیات احمد ۴۲۴ جلد پنجم حصہ اول تیری مرضی کے مخالف اور تیرے نزدیک صادق نہیں ہے اس سے یہ توفیق چھین لے اور اس کی زبان کو فصیح عربی اور معارف قرآنی کے بیان سے روک لے تالوگ معلوم کر لیں کہ تو کس کے ساتھ ہے اور کون تیرے فضل اور روح القدس کی تائید سے محروم ہے۔پھر اس دعا کے بعد فریقین عربی زبان میں اس تفسیر کو لکھنا شروع کریں۔اور یہ ضروری شرط ہوگی کہ ہر ایک فریق چپکے چپکے بغیر آواز سنانے کے اپنے ہاتھ سے لکھے تا اس کی فصیح عبارت اور معارف کے سننے سے دوسرا فریق کسی قسم کا اقتباس یا سرقہ نہ کر سکے۔اور اس تفسیر کے لکھنے کے لئے ہر ایک فریق کو پورے سات گھنٹے مہلت دی جائے گی اور زانو بہ زانولکھنا ہوگا نہ کسی پردہ میں۔ہر ایک فریق کو اختیار ہو گا کہ اپنی تسلی کے لئے فریق ثانی کی تلاشی کر لے اس احتیاط سے کہ وہ پوشیدہ طور پر کسی کتاب سے مدد نہ لیتا ہو۔اور لکھنے کے لئے فریقین کو سات گھنٹے کی مہلت ملے گی۔مگر ایک ہی جلسہ میں اور ایک ہی دن میں اس تفسیر کے گواہوں کے رو بر ختم کرنا ہوگا اور جب فریقین لکھ چکیں تو وہ دونوں تفسیریں بعد دستخط تین اہل علم کو جن کا اہتمام حاضری وانتخاب پیر مہر علی شاہ صاحب کے ذمہ ہوگا۔سنائی جائیں گی۔اور ان ہر سہ مولوی صاحبوں کا یہ کام ہوگا کہ وہ حلفاً یہ رائے ظاہر کریں کہ ان دونوں تفسیر وں اور دونوں عربی عبارتوں میں سے کون سی تفسیر اور عبارت تائید روح القدس سے لکھی گئی ہے اور ضروری ہوگا کہ ان تینوں عالموں میں سے کوئی نہ اس عاجز کے سلسلہ میں داخل ہو اور نہ مہر علی شاہ کا مرید ہو اور مجھے منظور ہے کہ پیر مہر علی شاہ صاحب اس شہادت کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الجبار غزنوی اور مولوی عبداللہ پروفیسر لاہوری کو یا تین اور مولوی منتخب کریں جو ان کے مریدا اور پیر نہ ہوں لیے مگر ضروری ہوگا کہ یہ تینوں مولوی صاحبان حلفاً اپنی رائے ظاہر کریں کہ کس کی تفسیر اور عربی عبارت اعلیٰ درجہ پر اور تائید لے یادر ہے کہ ہر ایک نبی یا رسول یا محدث جو نشان اتمام حجت کے لئے پیش کرتا ہے وہی نشان خدا تعالیٰ کے نزدیک معیار صدق و کذب ہوتا ہے اور منکرین کی اپنی درخواست کے نشان معیار نہیں ٹھہر سکتے گو ممکن ہے کہ کبھی شاذ و نادر کے طور پر ان میں سے بھی کوئی بات قبول کی جائے کیونکہ خدا تعالیٰ انہی نشانوں کے ساتھ حجت پوری کرتا ہے جو آپ بغرض تحدی پیش کرتا ہے یہی سنت اللہ ہے۔منہ ے یہ اس شرط سے کہ مولوی محمدحسین و غیرہ اس مباہلہ سے گریز کر جائیں جو ضمیمہ اشتہار ہذا میں درج ہیں۔منہ