حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 421 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 421

حیات احمد ۴۲۱ جلد پنجم حصہ اول ۱۹۰۰ء کو ایک اشتہار شائع کیا اور اس کے ضمیمہ کے طور پر ان تمام علماء ہند و پنجاب کی فہرست دی جو اپنے علم کے بلند بانگ دعاوی کرتے تھے مگر نتیجہ کیا ہوا۔چناں خفته اند کہ گوئی مردہ اند وہ اعلان یہ ہے۔پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی جو سخت مکذب ہیں ان کے ساتھ ایک طریق فیصلہ مع ان علماء کے نام ضمیمہ اشتہار ہذا میں درج ہے یہ یہ صاحب جن کا نام عنوان میں درج ہے یعنی مہر علی شاہ صاحب ضلع راولپنڈی کے سجادہ نشینوں میں سے ایک بزرگ ہیں۔وہ اپنی رسمی مشیخت کے غرور سے اس خیال میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح سے اس سلسلہ آسمانی کو مٹادیں چنا نچہ اسی غرض سے انہوں نے دو کتا ہیں لکھی ہیں جو اس بات پر کافی دلیل ہیں کہ وہ علم قرآن اور حدیث سے کیسے بے بہرہ اور بے نصیب ہیں۔اور چونکہ ان لوگوں کے خیالات بالکل پست اور محدود ہوتے ہیں اس لئے وہ اپنے ان تمام ذخیرہ لغویات میں ایک بھی ایسی بات پیش نہ کر سکے جس کے اندر کچھ روشنی ہو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ صرف اس دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں کہ بعض حدیثوں میں لکھا ہے کہ مسیح موعود آسمان سے نازل ہوگا حالانکہ کسی حدیث ثابت نہیں ہوتا کہ کبھی اور کسی زمانہ میں حضرت عیسی جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے یا کسی آخری زمانہ میں جسم عنصری کے ساتھ نازل ہوں گے اگر لکھا ہے تو کیوں ایسی حدیث پیش نہیں کرتے ناحق نزول کے لفظ کے الٹے معنی کرتے ہیں خدا کی کتابوں کا یہ قدیم محاورہ ہے کہ جو خدا کی طرف سے آتا ہے اس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوا۔دیکھوانجیل یوحنا بابا آیت لے پنجاب اور ہندوستان کے سجادہ نشین یہ عذر نہیں پیش کر سکتے کہ ہم تو جاہل اور علم قرآن اور علم عربیت سے بے بہرہ اور بے نصیب ہیں پھر تفسیر قرآن مجید اور بلاغت عربیت میں کیا مقابلہ کریں کیونکہ اگر وہ جاہل ہیں تو لوگوں سے بیعت کیوں لیتے ہیں اور مراتب سلوک میں مرتبہ کشف القرآن کیوں رکھا ہوا ہے۔ماسوا اس کے جب کہ یہ مقابلہ خارق عادت کے طور پر ہے۔تو علم کی ضرورت ہی کیا ہے کشف اور الہام سے کام لیں جس کا دعویٰ ہے۔منہ القدر : ٢ الطلاق : ۲۱،۱۱