حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 422
حیات احمد ۴۲۲ جلد پنجم حصہ اوّل ۳۸۔اور اسی راز کی طرف اشارہ ہے سورۃ اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ے میں اور نیز آیت ذِكْرًا رَّسُولاً ت میں لیکن عوام جو جسمانی خیال کے ہوتے ہیں وہ ہر ایک بات کو جسمانی طور پر سمجھ لیتے ہیں۔یہ لوگ خیال نہیں کرتے جیسے حضرت مسیح ان کے زعم میں فرشتوں کے ساتھ آسمان سے اتریں گے ایسا ہی ان کا یہ بھی تو عقیدہ ہے کہ آنحضرت علی بھی فرشتوں کے ساتھ آسمان پر گئے تھے بلکہ اس جگہ تو ایک بُراق بھی ساتھ تھا مگر کس نے آنحضرت کا چڑھنا اور اتر نا دیکھا اور نیز فرشتوں اور بُراق کو دیکھا ؟ ظاہر ہے کہ منکر لوگ معراج کی رات میں نہ دیکھ سکے کہ فرشتے آنحضرت عمے کو آسمان پر لے گئے اور نہ اترتے دیکھ سکے اسی لئے انہوں نے شور مچادیا کہ معراج جھوٹ ہے اب یہ لوگ جو ایسے مسیح کے منتظر ہیں جو آسمان سے فرشتوں کے ساتھ اتر تا نظر آئے گا یہ کس قدر خلاف سنت اللہ ہے، سید الرسل کا تو آسمان پر چڑھنایا اتر نا نظر نہ آیا تو کیا مسیح اتر تا نظر آ جائے گا۔لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِینِ کیا ابو بکر صدیق نے سید المرسلین محمد مصطفیﷺ کو مع فرشتوں کے معراج کی رات میں آسمان پر چڑھتے یا اترتے دیکھا؟ یا عمر فاروق نے اس مشاہدہ کا فخر حاصل کیا؟ یا علی مرتضیٰ نے اس نظارہ سے کچھ حصہ لیا پھر تم کون اور تمہاری حیثیت کیا کہ مسیح موعود کو آسمان سے مع فرشتوں کے اترتے دیکھو گے خود قرآن کریم ایسی رؤیت کا مکذب ہے۔۔رض سوائے مسلمانوں کی نسل ان خیالات سے باز آجاؤ تمہاری آنکھوں کے سامنے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوئے اور کسوف خسوف تم نے رمضان میں دیکھ لیا اور صدی میں سے بھی سترہ برس گزر گئے کیا اب تک مفاسد موجودہ کی اصلاح کے لئے مجدد پیدا نہ ہوا۔خدا سے ڈرو اور ضد اور حسد سے باز آجاؤ ، اس غیور سے ڈرو جس کا غضب کھا جانے والی آگ ہے اور اگر مہر علی شاہ صاحب اپنی ضد سے باز نہیں آتے تو میں فیصلہ کے لئے ایک سہل طریق پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ قرآن شریف اس تحقیق سے ثابت ہے کہ اس علامت کا منتظر رہنا کہ جب مسیح موعود کا دعویٰ کرنے والا آسمان سے اتر تا نظر آئے گا تبھی ہم اس کو قبول کریں گے سخت حماقت ہے جو بلاشبہ ایسا مشاہدہ محال ہے اور اگر جائز ہوتا تو ضرور ہمارے نبی یہ معراج کی رات میں چڑھتے اور اترتے دکھائی دیتے پس جو امر محال سے متعلق ہے وہ بھی محال اور باطل ہے۔منہ