حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 417
حیات احمد ۴۱۷ جلد پنجم حصہ اول محسوس کی تھی اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ بشپ مرزا غلام احمد کے دعوی مسیحائی کی نسبت یہ لکھتا ہے کہ پنجاب کے مسلمانوں کے ایک کثیر التعداد گروہ نے اس پر حقارت اور استہزا ظاہر کیا ہے اور اس کو وہ مرزا صاحب کے دعوئی کے بطلان کا قطعی اور یقینی ثبوت خیال کرتا ہے مگر تعجب ہے کہ جب پیلاتوس نے یہودیوں کے مجمع سے سوال کیا کہ وے عید فسح کے روز کسے آزاد کرانا چاہتے ہیں مسیح کو یا برابا کو تو اُن سب نے بالا تفاق بد معاش چور کے حق میں رائے دی کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یسوع کا دعویٰ مسیحیت بے بنیاد تھا ہم مرزائی غلام احمد کے پیرو نہیں اور نہ اس کے دعاوی کو مسیح کے دعووں پر ترجیح دینا چاہتے ہیں لیکن ہمارا اعتراض بشپ کی جھوٹی منطق پر ہے اگر تمام مسلمانوں نے مرزا صاحب کا دعوی مان لیا ہوتا تو کیا بشپ ان کی رسالت کے دعوے کے متعلق اپنی رائے بدل لیتا؟ اس وقت اس ملک کے لوگ اپنے مذہبی خیالات پر بالاستقلال قائم نہیں ہیں اس لئے ایسے لوگوں کے لئے جوان کو سچائی پر قائم کرنا چاہتے ہیں ضروری ہے کہ وہ دلائل ایسے پیش نہ کریں جو نہایت مضبوط اور قاطع نہ ہوں“۔بشپ صاحب کے انکار کا اثر بشپ صاحب کے انکار کا اثر یہ ہوا کہ عیسائیوں نے آئندہ احمدی جماعت کے ساتھ مباحثات نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا خصوصاًلا ہور میں انار کلی بازار میں جو عیسائیوں کا تبلیغی ہال تھا اور ہر روز وہاں تقریریں ہوتی تھیں جس میں خصوصیت سے ہفتہ کے دن مشن کالج کے عیسائی پر و فیسر اور خود پادری یو ینگ صاحب بھی آکر تقریر کرتے تھے ان تبلیغی تقریروں کے متعلق پادری یو ینگ نے حکم دیا کہ دروازے بند کر کے تقریر کئے جایا کریں۔مسٹر فضل مسیح ( جو ریلیجس بک سوسائٹی کے جنرل مینیجر تھے اور وہ قادیان بھی ایک مرتبہ آئے تھے ) نے کہا کہ اس سے کیا فائدہ ڈاکٹر یو ینگ نے کہا کہ مرزائی آگئے تو کوئی ذمہ دار نہ ہو گا وہ آکر اعتراض کریں گے۔غرض یہ فیصلہ کیا گیا کہ حضرت اقدس کے کسی مرید سے گفتگو نہ کی جاوے اس تجویز کا اثر ہندوستان ہی نہیں چرچ آف انگلینڈ کی مشاورتی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ