حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 410
حیات احمد ۴۱۰ جلد پنجم حصہ اول فرمائی تھی کہ غلبہ صلیب کے وقت مسیح موعود ظاہر ہوگا اور وہ نبیوں کی شان لے کر آئے گا اور خدا اس کے ہاتھ پر صلیبی مذہب کو شکست دے گا اس کی نافرمانی نہ کرنا اور اس کو میری طرف سے سلام پہنچانا ؟ اور اگر یہ کہو کہ وہ تو آکر نصاری سے لڑے گا اور ان کی صلیبوں کو توڑے گا اور ان کی خنزیروں کو قتل کرے گا تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ علماء اسلام کی غلطیاں ہیں بلکہ ضرور تھا کہ مسیح موعود نرمی اور صلح کاری کے ساتھ آتا اور صحیح بخاری میں بھی لکھا ہوا ہے کہ مسیح موعود جنگ نہیں کرے گا اور نہ تلوار اٹھائے گا بلکہ اس کا حربہ آسمانی حربہ ہوگا جو اس کی تلوار دلائل قاطعہ ہوں گے۔سو وہ اپنے وقت پر آچکا اب کسی فرضی مہدی اور فرضی مسیح موعود کی انتظار کرنا اور خونریزی کے زمانہ کا منتظر رہنا سراسر کو یہ نہی کا نتیجہ ہے جو خدا نے میرے ہاتھ پر بہت سے نشان دکھلائے اور وہ ایسے یقینی طور پر ظاہر ہوئے کہ تیرہ سو برس کے زمانہ میں آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے بعد ان کی نظیر نہیں پائی جاتی اسلامی اولیاء کی کرامات ان کی زندگی سے بہت پیچھے لکھی گئی ہیں اور ان کی شہرت صرف ان کے چند مریدوں تک محدود تھی لیکن یہ نشان کروڑ ہا انسانوں میں شہرت پاگئے مثلاً دیکھوکر لیکھرام کی پیشگوئی کو کیونکر فریقین نے اپنے اشتہارات میں شائع کیا اور قبل اس کے جو وہ پیشگوئی ظہور میں آوے لاکھوں انسانوں میں اس پیشگوئی کا مضمون شہرت پا گیا اور تین قومیں ہندو مسلمان ،عیسائی اس پر گواہ ہو گئیں۔پھر اسی کتر وفر سے پیشگوئی ظہور میں بھی آئی اور اُسی طرح لیکھرام قتل کے ذریعہ سے فوت ہوا جیسا کہ پیش از وقت ظاہر کیا گیا تھا۔کیا ایسی ہیبت ناک پیشگوئی کو پورا کرنا انسان کے اختیار میں ہے؟ کیا اس ملک کی تین قوموں میں اس قدر شہرت پا کر اور ایک گشتی کی طرح لاکھوں انسانوں کے نظارہ کے نیچے آکر اس کا پورا ہو جانا ایسی پیشگوئی کی جو اس شان وشوکت کے ساتھ پوری ہوئی ہو تیرہ سو برس کے زمانہ میں کوئی نظیر بھی ہے؟ اور حمد ایسے نشان جو مجھ سے ظہور میں آئے جن کے کروڑہا انسان گواہ ہیں ان میں سے ایک سونشان کتاب تریاق القلوب میں معہ گواہوں کے ذکر کے درج ہیں۔منہ