حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 409
حیات احمد ۴۰۹ جلد پنجم حصہ اول کو صد ہا درجہ مولوی عبد اللہ غزنوی سے بہتر سمجھوں گا اور سمجھتا ہوں کیونکہ خدا تعالیٰ ان کو وہ نشان دکھلاتا ہے کہ جو مولوی عبداللہ صاحب نے نہیں دیکھے اور ان کو وہ معارف سمجھاتا ہے جن کی مولوی عبداللہ کو کچھ بھی خبر نہیں تھی اور انہوں نے اپنی خوش قسمتی سے مسیح موعود پایا اور اسے قبول کیا مگر مولوی عبد اللہ اس نعمت سے محروم گزر گئے۔آپ میری نسبت کیسا ہی بدگمان کریں اس کا فیصلہ تو خدا تعالیٰ کے پاس ہے لیکن میں بار بار کہتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور اس ٹور میں میرا پودہ لگایا گیا ہے جس نور کا وارث مہدی آخری زمان چاہیے تھا۔میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکر کے درجہ پر ہے انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی عطا کی تقسیم ہے اگر کوئی بخل سے مر بھی جائے تو اُس کو کیا پر واہ ہے اور جو شخص مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کے ذکر پر مجھ سے ناراض ہوتا ہے اس کو ذرا خدا سے شرم کر کے اپنے نفس سے ہی سوال کرنا چاہیے کہ کیا یہ عبداللہ اس مہدی ومسیح موعود کے درجہ پر ہوسکتا ہے جس کو ہمارے نبی کریم ﷺ نے سلام کہا اور فرمایا کہ خوش قسمت ہے وہ امت جو دو پناہوں کے اندر ہے ایک میں جو خاتم الانبیاء ہوں اور ایک مسیح موعود جو ولایت کے تمام کمالات کو ختم کرتا ہے اور فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جو نجات پائیں گے۔اب فرمائیے کہ جو شخص مسیح موعود سے کنارہ کر کے عبداللہ غزنوی کی وجہ سے اس سے ناراض ہوتا ہے اس کا کیا حال ہے۔کیا سچ نہیں ہے کہ تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت کے صلحاء اور اولیاء اور ابدال اور قطبوں اور غوثوں میں سے کوئی بھی مسیح موعود کی شان اور مرتبہ کونہیں پہنچتا۔پھر اگر یہ سچ ہے تو آپ کا مسیح موعود کے مقابل پر مولوی عبداللہ غزنوی کا ذکر کرنا اور بار بار یہ شکایت کرنا کہ عبداللہ کے حق میں یہ کہا ہے کس قدر خدا تعالیٰ کے احکام اور اس کے رسول کریم کی وصیتوں سے لا پروائی ہے۔کیا نبی ﷺ نے یہ نصیحت فرمائی تھی کہ عبداللہ غزنی سے نکالا جائے گا اور پنجاب میں آئے گا اس کو تم مان لینا اور میرا سلام اس کو پہنچانا؟ یا یہ نصیحت