حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 408 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 408

حیات احمد ۴۰۸ جلد پنجم حصہ اول اور خادموں میں داخل ہو جاتے۔ظاہر ہے کہ مسیح موعود کے آگے گردن خم کرنا اور غربت اور چاکری کی راہ سے اطاعت اختیار کر لینا ہر ایک دیندار اور سچے مسلمان کا کام ہے۔پھر وہ کیوں کر میری اطاعت سے باہر رہ سکتے تھے۔اس صورت میں آپ کا کچھ بھی حق نہیں تھا اگر میں حکم ہونے کی حیثیت سے ان میں کچھ کلام کرتا۔آپ جانتے ہیں کہ خدا اور رسول نے مولوی عبد اللہ کا کوئی درجہ مقرر نہیں کیا اور نہ اُن کے بارے میں کوئی خبر دی۔یہ فقط آپ کا نیک ظن ہے جو آپ نے ان کو نیک سمجھ لیا ورنہ کسی حدیث یا آیت سے ثابت نہیں کہ در حقیقت پاک دل تھے۔ہاں جہاں تک ہمیں خبر ہے وہ پابند نماز تھے۔رمضان کے روزے رکھتے تھے اور بظاہر دیندار مسلمان تھے اور اندرونی حال خدا کو معلوم۔حافظ محمد یوسف صاحب نے کئی دفعہ قسم کو یاد کرنے سے یقین کامل سے کئی مجلسوں میں میرے رو برو بیان کیا کہ ایک دفعہ عبداللہ صاحب نے اپنے کسی خواب یا الہام کے بنا پر فرمایا تھا کہ آسمان سے ایک نور قادیان میں گرا جس کے فیضان سے اُن کی اولا دبے نصیب رہ گئی۔حافظ صاحب زندہ ہیں ان سے پوچھ لیں پھر آپ کی شکایت کس قدر افسوس کے لائق ہے اور اللہ جلّ شانہ خوب جانتا ہے کہ ہمیشہ مولوی عبداللہ غزنوی کی نسبت میرا نیک ظن رہا ہے اور اگر چہ بعض حرکات ان کی میں نے ایسی بھی دیکھیں کہ اس حسن ظن میں فرق ڈالنے والی تھیں تاہم میں نے ان کی طرف کچھ خیال نہ کیا اور سمجھتا رہا کہ وہ ایک مسلمان اپنی فہم اور طاقت کے موافق پابند سنت تھا لیکن میں اس سے مجبور رہا کہ میں ان کو ایسے درجہ کا انسان خیال کرتا کہ جیسے خدا کے کامل بندے مامورین ہوتے ہیں اور مجھے خدا نے اپنی جماعت کے نیک بندوں کی نسبت وہ وعدے دیئے ہیں کہ جولوگ ان وعدوں کے موافق میری جماعت میں سے روحانی نشو ونما پائیں گے اور پاک دل ہو کر خدا سے پاک تعلق جوڑ لیں گے میں اپنے ایمان سے کہتا ہوں کہ میں ان حاشیہ۔حافظ صاحب کے بھائی محمد یعقوب نے ایک مجلس میں یہ کہا ہے کہ عبداللہ صاحب نے نام بھی لیا تھا کہ وہ نور مرزا غلام احمد پر نازل ہو اگر میں ایسی روایتوں کا ذمہ وار نہیں۔جھوٹ بیچ ان دونوں کی گردن پر۔منہ