حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 407
حیات احمد ۴۰۷ جلد پنجم حصہ اول رکھیں تب کسی آسمانی فیصلہ کی امید ہے۔اسی وجہ سے میں نے اللہ تعالیٰ کی قسمیں آپ کو پہلے خط میں دی تھیں تا آپ جلد تر اپنے الہام میری طرف بھیج دیں مگر آپ نے کچھ پرواہ نہیں کی اور میرے نزدیک یہ عذر آپ کا قبول کے لائق نہیں کہ آپ کو مخالفانہ الہام اس کثرت سے ہوتے ہیں کہ ایک مدت ان کی تشریح کے لئے چاہیے۔میرے خیال میں یہ کام چند منٹ سے زیادہ کا کام نہیں ہے اور غایت درجہ دو گھنٹہ تک مع تشریح و تفسیر آپ لکھ سکتے ہیں اور اگر کسی اور کتاب کی تالیف کا ارادہ ہے تو اس کو اس سے کچھ تعلق نہیں۔مناسب ہے کہ آپ اس امت پر رحم کر کے اور نیز خدا تعالیٰ کی قسموں کی تعظیم کر کے بالفعل دو تین سوالہام ہی جو گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کا کام ہے چھپوا کر روانہ فرماویں۔یہ تو میں تسلیم نہیں کر سکتا کہ الہامات کی بڑی بڑی عبارات ہیں بلکہ ایسی ہوں گی جیسا کہ آپ کا الهام مُسرف كذاب “ تو اس صورت میں آپ جانتے ہیں کہ اس قسم کے الہام کاغذ کے ایک صفحہ میں کس قدر آ سکتے ہیں۔میں پھر آپ کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں کہ مسلمانوں کی حالت پر رحم کر کے بجر دپہنچنے اس خط کے اپنے الہامات چھپوا کر روانہ فرماویں۔مجھے اس بات پر بھی سخت افسوس ہوا ہے کہ آپ نے بے وجہ میری یہ شکایت کی کہ گویا میں نے مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی کوئی بے ادبی کی ہے۔آپ جانتے ہیں کہ میری گفتگو صرف اس قدر تھی کہ آپ مولوی محمد حسین کو کیوں بُرا کہتے ہیں حالانکہ آپ کے مرشد مولوی عبد اللہ صاحب نے اس کے حق میں یہ الہام شائع کیا تھا کہ وہ تمام عالموں کے لئے رحمت ہے اور سب اُمت سے بہتر ہے۔یہ قرآنی الہام تھے جن کا میں نے ترجمہ کر دیا ہے اس صورت میں اگر شک تھا تو آپ مولوی محمد حسین سے دریافت کر لیتے۔سچی بات پر غصہ کرنا مناسب نہیں ہے پھر ماسوا اس کے جس دعوی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے اس کے مقابل پر عبداللہ صاحب کی کیا حقیقت اور سرمایہ ہے۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ اگر وہ اس وقت زندہ ہوتے تو وہ میرے تابعداروں