حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 401 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 401

حیات احمد ۴۰۱ جلد پنجم حصہ اول أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ۔قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔وَقُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنّى رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا أَى مُرْسَلٌ مِّنَ اللَّهِ) - غرض خدا کے روشن نشان میرے ساتھ ہیں اسی کی مانند جو خدا کے پاک نبیوں کے ساتھ تھے مگر آپ لوگوں کی روحوں میں کچھ حرکت پیدا نہ ہوئی۔اس سے دل دردمند ہے کہ آپ لوگوں نے ایسی قابل شرم غلطی کھائی اور نور کوتاریکی سمجھا، مگر آپ لوگ اے اسلام کے علماء! اب بھی اس قاعدہ کے موافق جو بچے نبیوں کی شناخت کے لئے مقرر کیا گیا ہے قادیان سے کسی قریب مقام میں جیسا کہ مثلاً بٹالہ ہے یا اگر آپ کو انشراح صدر میسر آوے تو خود قادیان میں ایک مجلس مقرر کریں جس مجلس کے سرگروہ آپ کی طرف سے چند مولوی صاحبان ہوں جو حلم اور برداشت اور تقویٰ اور خوف باری تعالیٰ میں آپ لوگوں کے نزدیک مسلم ہوں پھر ان پر واجب ہوگا کہ منصفانہ طور پر بحث کریں اور ان کا حق ہوگا کہ تین طور سے مجھ سے اپنی تسلی کرلیں (۱) قرآن اور حدیث کی رو سے (۲) عقل کی رو سے (۳) سماوی تائیدات اور خوارق اور کرامات کی رو سے۔کیونکہ خدا نے اپنی کلام میں مامورین کے پرکھنے کے لئے یہی تین طریق بیان فرمائے ہیں۔پس اگر میں ان تینوں طوروں سے ان کی تسلی نہ کر سکا یا اگر ان تینوں میں سے صرف ایک یا دو طور سے تسلی کی تو تمام دنیا گواہ رہے کہ میں کا ذب ٹھہروں گا لیکن اگر میں نے ایسی تسلی کر دی جس سے وہ ایمان اور حلف کی رو سے انکار نہ کر سکیں اور نیز وزن ثبوت میں ان دلائل کی نظیر پیش نہ کر سکیں تو لازم ہوگا کہ تمام مخالف مولوی اور ان کے نادان پیرو خدا تعالیٰ سے ڈریں اور کروڑوں انسانوں کے گناہ کا بوجھ اپنی گردن پر نہ لیں۔اور اس جگہ میں بالخصوص ان صاحبوں کو مندرجہ ذیل شہادت کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جو مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی نسبت جن کی اولا دمولوی عبدالواحد صاحب اور عبدالجبار صاحب امرتسر میں موجود ہیں راستبازی کا اعتقادر کھتے ہیں یا خود اُن کے فرزند ہیں۔