حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 402
حیات احمد ۴۰۲ جلد پنجم حصہ اول تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مجھے میرے مخالفوں کے گروہ میں سے دو شخص کے ذریعہ سے خبر پہنچی ہے کہ مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی نے میرے ظہور کی نسبت پیشگوئی کی تھی۔ان دونوں صاحبوں میں سے ایک صاحب کا نام حافظ محمد یوسف ہے جو داروغہ نہر ہیں غالبا اب مستقل سکونت امرتسر میں رکھتے ہیں۔دوسرے صاحب منشی محمد یعقوب نام ہیں اور یہ دونوں حقیقی بھائی ہیں اور یہ دونوں صاحب عبداللہ صاحب کے خاص معتقدین اور مصاحبین میں سے ہیں جس سے کسی صاحب کو بھی انکار نہیں اور ان کی گواہیاں اگر چہ دو ہیں مگر حاصل مطلب ایک ہی ہے۔حافظ محمد یوسف صاحب کا حلفی بیان ہے جس کے غالباً دوسو کے قریب گواہ ہوں گے یہ ہے کہ ایک دن عبداللہ صاحب نے مجھے فرمایا کہ میں نے کشفی طور پر دیکھا ہے کہ ایک نور آسمان سے قادیان کی طرف نازل ہوا ہے اور میری اولا داس سے محروم رہ گئی ہے یعنی اس کو قبول نہیں کیا اور وہ انکار اور مخالفت پر مرے گی۔اور منشی محمد یعقوب صاحب کا ایک تحریری بیان ہے جو ایک خط میں موجود ہے جو ابھی ۳۰ اپریل ۱۹۰۰ء کو بذریعہ منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلہ سے مجھ کو پہنچا ہے جس کو انہوں نے بتاریخ ۲۴ /اپریل ۱۹۰۰ ء اپنے ہاتھ سے لکھ کر منشی ظفر احمد صاحب کے پاس بھیجا تھا اور انہوں نے میرے پاس بھیج دیا۔جو اس وقت میرے سامنے رکھا ہے اور جو شخص چاہے دیکھ سکتا ہے۔مگر میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس تمام حقیقت کے سمجھانے کے لئے وہ حالات بھی لکھ دوں جو مجھے معلوم ہیں کیونکہ جو کچھ خط میں ایک کمز ور عبارت میں لکھا گیا ہے اس کو منشی محمد یعقوب صاحب ایک بڑے شدّ ومد سے میرے سامنے بیان کر چکے ہیں۔مگر چونکہ اب وہ اور ان کی دنیا سے پیار کرنے والے بھائی محمد یوسف شیعوں کی طرح خلافتِ حقہ سے انکار کر کے تقیہ کے رنگ میں بسر کر رہے ہیں اس لئے اب ان کے لئے ایک موت ہے کہ سچا واقعہ مجلس میں اسی شد ومد کے ساتھ منہ پر لاویں تا ہم امید نہیں کہ وہ اس شہادت کو مخفی رکھیں کیونکہ حق کو