حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 400
حیات احمد ۴۰۰ جلد پنجم حصہ اول زمانہ ہو اس کا میرے زمانہ بعث کی طرح تحریری ثبوت دو اور لعنت ہے اس شخص پر جو مجھے جھوٹا جانتا ہے اور پھر یہ نظیر مع ثبوت پیش نہ کرے فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ے اور ساتھ اس کے یہ بھی بتلاؤ کہ کیا تم کسی ایسے مفتری کو بطور نظیر پیش کر سکتے ہو جس کے کھلے کھلے نشان تحریر اور ہزاروں شہادتوں کے ذریعہ سے میری طرح بپائے ثبوت پہنچ گئے ہوں۔اے لوگو تم پر افسوس تم نے اپنے ایمانوں کو ایسے نازک وقت میں ضائع کیا جیسا کہ ایک نادان ایسے لق و دق بیابان میں پانی کو ضائع کر دے جس میں ایک قطرہ پانی کا میسر نہیں آسکتا۔خدا نے عین صدی کے سر پر عین ضرورت کے وقت میں تمہارے لئے ایک مجدد بھیجا اور صدی بھی چودھویں صدی جو اسلام کے ہلال کو بدر کرنے کے لئے مقرر کی گئی تھی جس کی تم اور تمہارے باپ دادے انتظار کرتے تھے اور جس کی نسبت اہلِ کشف کے کشفوں کا ڈھیر لگ گیا تھا اور دوسری طرف مجدد کے ظہور کے لئے ضرورتیں وہ پیش آئی تھیں جو کبھی نبوت کے زمانہ کے بعد پیش نہ آئیں مگر آپ لوگوں نے پھر بھی قبول نہ کیا۔اس مہدی کے وقت میں جس کا دوسرا نام مسیح موعود ہے خسوف کسوف بھی رمضان میں ہوا جو قریباً گیارہ سو برس سے تمہاری حدیث کی کتابوں میں لکھا ہوا موجود تھا مگر آپ لوگوں نے پھر بھی نہ سمجھا چودھویں صدی میں سے سترہ برس گزر بھی گئے مگر پھر بھی آپ لوگوں کے دلوں میں کچھ سوچ پیدا نہ ہوئی۔یہ ضرورتیں اور صدی خالی گئی۔کیا تم میں کوئی بھی سوچنے والا نہیں ؟ میں نے بار بار کہا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں۔میں نے بلند آواز سے ہر ایک کو پکارا جیسا کہ کوئی پہاڑ پر چڑھ کر نعرے مارتا ہے۔خدا نے مجھے کہا کہ اٹھ اور ان لوگوں کو کہہ دے کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم خدا کی گواہی کو ر ڈ کر دو گے۔خدا کا کلام جو میرے پر نازل ہوا اس کے یہ الفاظ ہیں قُلْ عِنْدِي شَهَادَةٌ مِّنَ اللَّهِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُّؤْمِنُونَ۔قُلْ عِنْدِي شَهَادَةٌ مِّنَ اللَّهِ فَهَلْ