حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 394 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 394

حیات احمد ۳۹۴ جلد پنجم حصہ اول جیسا کہ ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ کا جسمانی رفع نہیں ہوا تو کیا وہ یہودیوں کے نزدیک نجات یافتہ نہیں ہیں۔غرض اس قصہ میں اکثر لوگ حقیقت کو چھوڑ کر کہیں کے کہیں چلے گئے ہیں۔قرآن شریف ہرگز اس عقیدہ کی تعلیم نہیں کرتا کہ نجات کے لئے جسمانی رفع کی ضرورت ہے اور نہ یہ کہ حضرت مسیح زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں۔قرآن نے کیوں اس قصہ کو چھیڑا۔اس کا فقط یہ سبب تھا کہ یہودیوں اور عیسائیوں میں روحانی طور پر رفع اور عدم رفع میں ایک جھگڑا تھا۔یہودیوں کو یہ حجت ہاتھ آگئی تھی کہ یسوع مسیح سولی دیا گیا ہے لہذا وہ توریت کی رو سے اُس رفع کا جو ایمانداروں کا ہوتا ہے بے نصیب رہا اور اس سے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ وہ سچا نبی نہیں ہے جیسا کہ اب بھی وہ سولی کا واقع بیان کر کے یہی مقام توریت کا پیش کرتے ہیں۔اور میں نے اکثر یہودیوں سے جو دریافت کیا تو انہوں نے یہی جواب دیا کہ ہمیں جسمانی رفع سے کچھ غرض نہیں ہم تو یہی ثابت کرتے ہیں کہ وہ شخص توریت کی رو سے ایماندار اور صادق نہیں ہو سکتا کیوں کہ وہ سولی دیا گیا پس تو ریت فتوی دیتی ہے کہ اس کا رفع روحانی نہیں ہوا۔بمبئی اور کلکتہ میں بہت سے یہودی موجود ہیں جس سے چاہو پوچھ لو، یہی جواب دے گا سو یہی وہ جھگڑا تھا جو فیصلہ کے لائق تھا خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان الفاظ سے اس جھگڑے کا فیصلہ کر دیا ہے کہ يُعِيْسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى یعنی یہ کہ وفات کے بعد حضرت مسیح کا رفع ہوا ہے اور وہ ایمانداروں کے گروہ میں سے ہے نہ ان میں سے جن پر آسمان کے دروازے بند ہوئے ہیں۔مگر جسمانی طور پر کسی کا آسمان میں جابیٹھنا نجات کے مسئلہ سے کچھ بھی تعلق اس کو نہیں اور نہ کوئی قرب الہی اس سے ثابت ہوتا ہے۔آج کل تو ثابت کیا گیا ہے کہ آسمان پر بھی مجسم مخلوق رہتے ہیں جیسے زمین پر تو کیا آسمان پر رہنے سے وہ سب نجات یافتہ ہیں۔باایں ہمہ یہ خیال سخت غیر معقول ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ حضرت مسیح کے جسم کو آسمان پر پہنچاوے تو چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کے جسم کے تمام ذرات کو محفوظ