حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 393
حیات احمد ۳۹۳ جلد پنجم حصہ اول آسمان پر نہیں گئے۔اور قرآن شریف تو ہمیں بار بار یہ بتلاتا ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے ہیں۔ہاں جو رفع ایماندار لوگوں کے لئے فوت کے بعد ہوا کرتا ہے وہ ان کے لئے بھی ہوا تھا جیسا کہ آیت يُعِیسَی اِنّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ اِلَى سے سمجھا جاتا ہے کیونکہ لفظ رَافِعُكَ قرآن شریف میں لفظ مُتَوَفِّيكَ کے بعد مذکور ہے اور یہ قطعی قرینہ اس بات پر ہے کہ یہ وہ رفع ہے جو وفات کے بعد مومنوں کے لئے ہوا کرتا ہے۔اصل جڑھ اس کی یقھی کہ یہودی حضرت مسیح کے رفع روحانی کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ چونکہ وہ سولی دیئے گئے تھے تو بموجب حکم تو ریت کے وہ اس رفع سے بے نصیب ہیں جو مومنوں کو موت کے بعد خدا کی طرف سے بطور انعام ہوتا ہے اور خدا کے قرب کے ساتھ ایک پاک زندگی ملتی ہے۔سو ان آیات میں یہودیوں کے اس خیال کا اس طرح پر رد کیا گیا کہ مسیح صلیب کے ذریعہ قتل نہیں کیا گیا تھا اور اس کی موت صلیب پر نہیں ہوئی اس لئے وہ توریت کے اس حکم کے نیچے نہیں آسکتا کہ جو شخص سولی پر چڑھایا جاوے اس کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوتا بلکہ وہ لعنتی ہو کر جہنم کی طرف جاتا ہے۔اب دیکھو کہ جسمانی رفع کا اس جگہ کوئی جھگڑا نہ تھا اور یہودیوں کا کبھی یہ مذہب نہیں ہوا۔اور نہ اب ہے کہ جو شخص سولی پر لٹکایا جاوے اس کا جسمانی طور پر رفع نہیں ہوتا یعنی وہ مع جسم آسمان پر نہیں جاتا کیونکہ یہودیوں نے جو حضرت مسیح کے اس رفع کا انکار کیا جو ہر ایک مومن کے لئے موت کے بعد ہوتا ہے تو اب اس کا سبب یہ ہے کہ یہودیوں اور نیز مسلمانوں کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ ایماندار کا فوت کے بعد خدا کی طرف رفع ہو جیسا کہ آیت لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاء صریح دلالت کرتی ہے اور جیسا کہ اِرْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّة کے میں بھی یہی اشارہ ہے لیکن جسمانی رفع یہودیوں کے نزدیک اور نیز مسلمانوں کے نزدیک بھی نجات کے لئے شرط نہیں ہے الاعراف: ام الفجر : ٢٩