حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 25
حیات احمد ۲۵ جلد پنجم حصہ اوّل چلتے اور مرضی وحکم کے مطابق کام کرتے ہیں ہمیں تو اس نے تسلی دے دی اور اس کی تسلی ہی سے ہم لوگ سمجھ گئے کہ اندر جو کچھ ہوا وہ خدا اور اس کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمن اور پادریوں کے معاون و مددگار گواہ ہی کی خاطر مدارات ہوئی ہے۔کانوں سے جو کچھ سنا اس کا قرینہ بھی اسی بات کا مؤید تھا کیونکہ حضرت اقدس کے بولنے کا نہ تو موقعہ تھانہ محل۔بولا ہوگا تو وہی گواہ جس کو شہادت کے لیے اندر بلایا گیا اتنے میں اردلی نے موقعہ نکالا اور باہر آ کر سارا واقعہ سنا گیا جس پر ہم لوگوں نے جہاں سجدات شکر اور کلمات حمد کے گیت گائے وہاں بعض حاضرین بھی ہمارے ہم آہنگ بن گئے اور ہماری ذلت و توہین دیکھنے کو جمع ہونے والوں کے دل خدا نے کچھ ایسے پھیر دیئے کہ وہی اس ملا کے چیلے چانٹے اب یہ کہتے سنائی دینے لگے کہ بڑا بے ایمان اور پکا کافر ہے۔ایک بزرگ مسلمان کے خلاف پادریوں کے لئے جھوٹی گواہی دینے کو آیا تبھی یہ ذلت دیکھی دور ہو دے ایسا مردود ناہنجار۔ہم تو اس کی شکل سے بیزار اور نام لینے کے روادار ہیں نہ سلام کے۔اردلی نے جو کچھ بتایا محبت و اخلاص اس کے محرک تھے یا کوئی طمع وحرص، ہوا کے رخ نے اس کو جرات دلائی یا صاحب بہادر کے سلوک وطریق، مجھے ان باتوں کا علم ہوا نہ ہی اس کی مجھے ضرورت تھی جو کچھ اس نے سنایا اس کا خلاصہ مطلب یہ تھا کہ:۔مرزا صاحب کمرے میں داخل ہوئے تو صاحب نے ایک خالی کرسی کی طرف اشارہ کر کے بیٹھنے کو کہا اور آپ کرسی پر بیٹھ گئے ، ڈاکٹر کلارک بھی صاحب کے پاس کرسی پر بیٹھا تھا۔مولوی صاحب کو جب آواز پڑی اور جلدی جلدی اندر آئے تو مرزا صاحب کو کرسی پر بیٹھے دیکھا تو جل بھن کر آگ بگولہ ہو گئے دائیں بائیں دیکھا تو کرسی خالی نہ تھی۔رہ نہ سکے اور بے ساختہ صاحب سے کہنے لگے کہ مجھے کرسی ملنی چاہیے کیونکہ میرے باپ درباری کرسی نشین تھے اور میں بھی۔ڈاکٹر مارٹن کلارک نے سفارشاً کہا کہ گواہ ایک معزز مذہبی لیڈر ہے، مگر صاحب بہادر نے کہا کہ ہمارے پاس ان کے باپ کے متعلق کوئی ایسی اطلاع ہے نہ ان کے اپنے متعلق ، صاحب کا یہ جواب سن کر مولوی محمد حسین صاحب اور بھی جھنجھلائے اور صاحب کی میز پر ہاتھ رکھ کر کسی قدر آگے کو جھکے۔اور پھر کرسی کے لئے