حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 26
حیات احمد ۲۶ جلد پنجم حصہ اول اصرار کیا۔صاحب بہادر کو ان کی یہ ادا ناگوار گزری انہوں نے اسے گستاخی سمجھ کر جھڑ کیاں دے کر خاموش رہنے، پیچھے ہٹنے اور سیدھا کھڑے ہونے کی غرض سے غصے میں کہا۔بک بک مت کر پیچھے ہٹ سیدھا کھڑا ہو، چنانچہ اس پر مولا نا ٹھنڈے ہو کر سیدھے تیر ہو گئے۔‘ یہ تو وہ واقعہ ہے جس کی گونج ہم نے کانوں سنی اور تفصیل صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے اردلی کی زبانی سنی جو موقعہ پر موجوداور چشم دید گواہ تھا۔اس کے بعد گواہی ان کی ختم ہوئی تو اردلی کی نگرانی میں باہر بیٹھنے کا حکم ہوا۔مولا نا کچھ تو وکلاء کی جرح قدح کے بوجھ کی وجہ سے تشویش میں تھے اور کچھ کرسی نشینی کے معاملہ کا شوق گلے کا ہار گلو گیر بن رہا تھا۔گھبراہٹ میں آس پاس نظر دوڑائی کرسی وغیرہ کوئی نہ پائی جھلا کر ار دلی سے بولے۔کوئی کرسی لاؤ مگر اردلی نے عذر کر دیا کہ کرسی خالی کوئی نہیں نا چار مولانا نے ایک آدمی کا کپڑ الیا اور فرش پر دھرنا مار کر بیٹھ گئے۔مگر وائے شو مئے قسمت کہ جس کا کپڑا لے کر بیٹھے تھے اس کو کسی دوسرے نے یہ کہہ کر غیرت دلائی کہ تم پادریوں کے ایسے گواہ کو اپنا کپڑا دیتے ہو جسے صاحب نے بھی جھڑ کیاں دے کر سیدھا کر دیا اور ترلے کرنے کے باوجود ا سے کرسی نہ دی عیسائی اور ار د لی ہی تم سے اچھے رہے۔وہ شخص چونکہ بعد میں آیا تھا اس وجہ سے اس بے چارے کو ان باتوں کا علم نہ تھا اس کی بات اس کے دل کو لگی اور دوڑ کر مولوی صاحب کی طرف جھپٹا اپنی چادر ان کے نیچے سے کھینچ کر بولا ”مولوی صاحب میں اپنا کپڑا پلید کرنانہیں چاہتا یہ چھوڑ دو۔یہ سعید الفطرت غیرت مند شخص میاں محمد بخش نام برا در خور میاں محمد اکبر صاحب مرحوم ٹھیکیدار بٹالوی تھے جن کو آخر اللہ تعالیٰ نے نور ہدایت سے منور کیا اور دولت ایمان عطا فرمائی مولانا کھسیانے ہوئے اور اس کا کپڑا چھوڑا کر کھڑے ہو گئے اور ادھر اُدھر ٹہلنے لگے۔یہ واقعہ جہاں میرا چشم دید ہے وہاں اور بھی کثرت سے اور دوستوں اپنوں اور بیگانوں کا بھی آنکھوں دیکھا سچا اور بالکل ٹھیک و صحیح واقعہ ہے۔66 اس کے بعد مولانا ٹہلتے ٹہلتے بنگلہ کے مشرقی جانب نکلے۔جدھر کپتان پولیس کا ڈیرہ نصب تھا۔کوئی خالی کرسی دیکھ کر بے اختیار لیکے اور اس پر جابر اجماں ہوئے مگر ان کی بد قسمتی کہ کسی پولیس