حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 24
حیات احمد ۲۴ جلد پنجم حصہ اول اندر اطلاع کی اور اس طرح حضور کو فوراً ہی اندر بلا لیا گیا۔انتظار آواز بھی نہ اٹھانا پڑی۔جبہ پوش مولوی جو منڈی اور اڈہ خانہ کے چوک میں ایک بھیڑ کو لئے کھڑا اور حسرت و نامرادی کے عذاب میں تلملا تا ہوا کھسک آیا تھا اب اس بنگلہ کا طواف کرتا نظر آیا اور دو دو چار چار کر کے اس کے ساتھی بھی وہیں جمع ہونا شروع ہو گئے۔حتی کہ ہوتے ہوتے پہلے سے بھی زیادہ بھیڑ اور تماش بینوں کا بھاری ہجوم ڈاک بنگلہ بٹالہ کے میدان میں جمع ہو گیا۔ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک پہلے سے صاحب بہادر کے کمرہ میں موجود تھا جس کے رضا کار وکلاء و مشیر قانونی حاضر اور گواہ بغض و تعصب اور خود غرضی و خودستائی کے مارے حق و صداقت اور صدق وسدا د کو مٹانے کے لئے ادھار کھائے کھڑے تھے۔حضور کمرہ عدالت میں داخل ہوئے۔جو ڈاک بنگلہ بٹالہ کے غربی جانب واقعہ اور جس کے شمال و غرب میں دروازہ موجود ہے۔کمرہ کے دروازوں پر چکس اور پہرہ دار چپراسی اِدھر اُدھر گھومتے دکھائی دیتے تھے۔حضور کے اندر داخل ہونے کے بعد ہم لوگوں کی جو حالت تھی خدائے علیم وخبیر کے سوا اس کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔دل ہمارے بیٹھے جارہے تھے۔خون پانی ہوا جاتا اور جسم ہمارے بیم در جا اور خوف وامید کے خیال سے لرزاں تھے تقرع اور الحاح عجز وانکسار خود بخود دعاؤں میں رقت اور سوز پیدا کر رہا تھا۔اور ہر کوئی اپنی اپنی جگہ علی قدر مراتب خدا کے فضل اور اس کی رحمت کے نزول کے لئے دست دعا پھیلا رہا تھا ہم لوگ انہی حالات میں تڑپتے اور بیقرار ہو رہے تھے کہ جبہ پوش کا ہن سردار کے نام کی پکار ہوئی اور وہ با این ریش و عمامہ دوڑتا ہوا بصد شوق داخل کمرہ ہو گیا۔اس کو داخل ہوئے ابھی چند منٹ گزرے ہوں گے کہ کمرہ عدالت ڈانٹ ڈپٹ اور ایک غضب آلود دہشت ناک آواز سے گونج اٹھا جس کی وجہ سے ہمارے زخمی اور نجور اور زخم خوردہ دل اور بھی بیٹھنے لگے۔آہ خداوندا یہ کیا ماجرا ہے؟ ہر کوئی گھبرا اٹھا اور ورانڈے کے قریب ہوا۔ہم لوگوں کو ورانڈے میں آتے دیکھ کر اردلی نے اشارہ سے روکا اور ساتھ ہی تسلی دی گھبراؤ نہیں پادریوں کے گواہ کی عزت افزائی ہورہی ہے قریب ہونے پر جو کچھ ہمارے کانوں نے سنا وہ یہ تھا کہ بک بک مت کر۔پیچھے ہٹ۔سیدھا کھڑا ہو۔اردلی لوگ مزاج شناس ہوا کرتے ہیں۔حاکموں کے اشارے پر