حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 374
حیات احمد خطبہ الہامیہ ۳۷۴ جلد پنجم حصہ اول اس کے بعد آپ نے وہ موعود خطبہ الہامیہ بیان کیا جس کی مختصر روئیداد یہ ہے۔☆۔۔بنگر اے قوم نشان ہائے خداوند قدیر چشم بکشا که بر چشم نشانی ہست کبیر ایک عظیم الشان نشان کا ظہور جب حضرت اقدس حسب تحریک مولا نا مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی باہمی خلت واخوت پر تقریر فرما چکے تو اللہ تعالیٰ کے القاء والماء کے موافق حضور نے عربی زبان میں خطبہ پڑھنے کا ارادہ ظاہر فرمایا، چونکہ یہ خطبہ آیات اللہ میں سے ایک زبر دست آیت اور لانظیر نشان ہے جو ہماری آنکھ کے سامنے بلکہ ایک عظیم الشان گروہ کے سامنے پورا ہوا۔ہم خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ یہ زبر دست فی الحقیقت اعجاز تھا غرض حضرت اقدس عربی خطبہ پڑھنے کے لئے تیار ہوئے اور حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب اور حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب کو حکم دیا کہ وہ قریب تر ہو کر اس خطبہ کو لکھیں جب حضرات مولوی صاحبان تیار ہو گئے تو آپ نے یــاعِبَادَ اللہ کے لفظ سے عربی خطبہ شروع فرمایا ہماری زبان قلم میں طاقت نہیں کہ آپ کے لب ولہجہ کی تصویر الفاظ میں کھینچ سکے الفاظ میں ایک برقی اثر تھا جو اندر ہی اندر طبیعت کے مواد ردیہ کو زائل کر رہا تھا۔شکل، صورت، زبان، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ شخص اس وقت اس دنیا میں موجود نہیں ہے اور اس کی زبان اپنے اختیار میں نہیں ہے نیم باز آنکھیں بتلا رہی تھیں کہ ایک سکر کی سی حالت طاری ہے۔حضرت اقدس کھڑے ترجمہ۔اے قوم !خدا وند قدیر کے نشانوں کو دیکھ۔آنکھ کھولو کہ چشم بینا کے لئے بہت بڑا نشان ہے۔