حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 373
حیات احمد جلد پنجم حصہ اول جو صحابہ میں پیدا ہوئی تھی كُنْتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ یا درکھو! تالیف ایک اعجاز ہے۔یاد رکھو! جب تک تم میں ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرے، وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے وہ مصیبت اور بلا میں ہے اس کا انجام اچھا نہیں۔میں ایک کتاب بنانے والا ہوں اس میں ایسے تمام لوگ الگ کر دئیے جائیں گے جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتے چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی ہوتی ہے مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ کسی بازی گر نے دس گنز کی چھلانگ ماری ہے۔دوسرا اس پر بحث کرنے بیٹھتا ہے اور اس طرح پر کینہ کا وجود پیدا ہو جاتا ہے۔یادرکھو بغض کا جدا ہونا مہدی کی علامت ہے اور کیا وہ علامت پوری نہ ہوگی۔وہ ضرور ہوگی۔تم کیوں صبر نہیں کرتے جیسے طبی مسئلہ ہے کہ جب تک کہ بعض امراض میں قلع قمع نہ کیا جاوے، مرض دفع نہیں ہوتا۔میرے وجود سے انشاء اللہ ایک صالح جماعت پیدا ہوگی۔باہمی عداوت کا سبب کیا ہے۔بخل ہے، رعونت ہے، خود پسندی ہے، اور جذبات ہیں۔میں نے بتلایا ہے کہ میں عنقریب ایک کتاب لکھوں گا اور ایسے تمام لوگوں کو جماعت سے الگ کر دوں گا جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتے اور باہم اخوت و محبت سے نہیں رہ سکتے۔جو ایسے ہیں وہ یادرکھیں کہ وہ چند روزہ مہمان ہیں۔جب تک عمدہ نمونہ نہ دکھائیں میں کسی کے سبب سے اپنے اوپر اعتراض لینا نہیں چاہتا ایسا شخص جو میری جماعت میں ہو کر میرے منشاء کے موافق نہ ہو وہ خشک ٹہنی ہے اس کو اگر باغبان کاٹے نہیں تو کیا کرے۔خشک ٹہنی دوسری سبز شاخ کے ساتھ رہ کر پانی چوس سکتی ہے مگر وہ اس کو سبز نہیں کر سکتی بلکہ وہ شاخ دوسری کو بھی لے بیٹھتی ہے پس ڈرو میرے ساتھ وہ نہ رہے گا جو اپنا علاج نہ کرے گا۔چونکہ یہ سب باتیں میں کتاب میں مفصل لکھوں گا اس لئے میں اب چند عربی فقرے کہہ کر فرض ادا کرتا ہوں“۔( الحکم مورخہ ۷ اراپریل ۱۹۰۰ صفحه ۸، ۹ ملفوظات جلد اول صفحہ ۳۳۶، ۳۳۷ شائع کرده نظارت اشاعت ربوه)