حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 366 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 366

حیات احمد ۳۶۶ جلد پنجم حصہ اوّل نے کچھ آسان ہی دکھایا (۳) مولانا جس راہ پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں چلایا اور اس پر علی وجہ البصيرة ہمیں آگاہی اور استقامت بخشی ہے اس میں اور اس دوسری راہ بل را ہوں میں جن کو اس وقت کے مدیران اصلاح اور فلاح قوم تجویز کرتے ہیں اَلا بَوْنِ بَائِن ہے(۴) خاکسار نے سید کی تحریروں مولوی چراغ علی کے عجائبات نواب صدیق حسن خاں کے صدہا رسائل السید مہدی علی کے مضامین اور لیکچر ز مولوی عبدالحی کے مباحث السید امیر علی کی لائف آف محمد ، احکام فقہ لِمَولانا محمد شبلی کے قابل قدر رسائل اور اس کی بے نظیر سوانح عمریاں پڑھیں اور بہت غور سے پڑھیں (۵) میں اُن پر نہ اس وقت کوئی ریویو کرتا ہوں اور نہ اس عریضہ میں حضور کے مجوزہ نوٹس پر ریمارک ہے نہ اس راہ پر کوئی بحث ہے جس کو زمانہ کے اقتضا کے موافق ہمارے امام و مقتدا مرزا قادیانی نے اصلاح وفلاح قوم کے لئے مولیٰ کریم جلث عظمت سے کلام پاکر (سید مرحوم والا الہام نہیں بَلْ مُكَـالَمـه الهیه ) ہمیں اس پر چلانا چاہا ہے۔صرف ایک رائے آپ کے نوٹس پر ایک سوال کے پیرا یہ میں بحضور ملا زمان والا پیش کرتا ہوں از راہ فتوة ومروۃ اس پر توجہ مبذول ہو اور پھر جواب بھی چاہتا ہوں قرآن کریم کی غایت اور اس نور فضل ہدایت ، شفا اور ہدایت کا اپنی تعلیم میں اعلیٰ مقصد کیا ہے؟ اس الكتاب اور لَا رَيْبَ فِيهِ مِنْ رَّبِّ الْعَالَمِین کی ہدایت پر پوری طرح آگاہی حاصل کر کے اس کے انوار اورافادات سے کامل طور پرمستنیر و مستفید ہو کر ایک شخص اپنے اندر اور اپنے اعمال میں وہ کون سا امر پیدا کر لیتا ہے جو اس میں اور دیگر مذاہب یا کتب الہامیہ کے پیرو میں فارق اور ما بہ الامتیاز ہو جائے؟ (۶) میری غرض یہ ہے کہ وہ کلام مطلوب الانسان کا کیا ہے جس تک قرآن مجید پہنچا دیتا ہے؟ اگر اس کو دستور العمل بنایا جاوے اور دیگر مذاہب و ادیان اور کتب سماویہ اس حد تک پہنچانے سے قاصر ہیں اگر چہ ان پر اس وقت عمل کیا جاوے۔اولڈ سٹمنٹ اور عہد جدید ، زند اوستا، گاہنہ اور دسا تیر، رگوید ، یجر۔سام اور انتھر، بن بدھ کی تعلیمات آج محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمارے سامنے موجود ہیں ذرہ بھی مشکل نہیں اگر ہم توجہ کریں اگر ان کتب کے بچے پیرو بھی موجود ہیں۔مولا نا ! خوش کن دعویٰ تو تمام ادیان