حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 367
حیات احمد ۳۶۷ جلد پنجم حصہ اول میں موجود ہیں مرکز ہمیں کیا ملے گا بر ہمو بھی جس کے پاس کوئی کتاب نہیں ہم کو بتلاتا ہے۔میرا منشاء اس سے موائد سے نہیں ممکن ہے موائد عرقوب ہوں یا مواعید صادقہ۔میرا مطلب یہ ہے کہ اس عالم دنیا میں جہاں ہم اس وقت موجود ہیں بقائمی ہوش و حواس وہ عملی آثار و علامات کیا ہیں جو قر آن کریم کو دستور العمل بنانے کے لئے مختص ہیں؟ کامل نہ سہی بطور نمونہ ہی حاصل ہو جاویں یہ کیوں عرض کرتا۔ہوں اس عالم میں وہ عملی آثار و آیات کون سے ہیں جن سے قرآن کریم کی باہرہ حجت اور واضح سلطان کو ہم دوسروں پر ثابت کر سکیں یا وہ حجج اوروں پر ثابت ہو جاویں؟ رازی کام یہ فخر تفسیر کبیر ہے اور غزالی کے واسطہ اِحْيَاء وَلَا شَكٍّ أَنَّهُمَا عَدِيْمَى النَّظِی مگر ان دونوں سے کیا میرے سوال کا جواب ہو جاتا ہے مجھے امید ہے کہ آپ اپنے گرامی اوقات سے تھوڑا سے حصہ نکال کر جواب سے مسرور فرمائیں گے۔ارادہ رسائل معارف کی خریداری اور مالی امداد میں ضرور شریک ہوں۔کر منامہ کے پہلے حصہ کا جواب میری کتابیں اکثر عاریت کی مد میں رہتی ہیں اس وقت پشاور سے لے کر حیدر آباد تک احباب نے مانگی ہوئی ہیں۔عمدہ جلدیں تباہ ہو جاتی ہیں میرا تجربہ ہے کہ عمده جلد والی کتاب اور نفیس شیشی میں جب دوائی ڈالیں تو چرائی گئیں اور بہت صدمہ پہنچا اس واسطے عمدہ دوائی اور کتاب خراب شیشی اور بودی جلدوں میں رکھتا ہوں۔نورالدین ۲۹ / مارچ ۱۹۰۰ء جامع مسجد (مسجد اقصیٰ ) کی توسیع جماعت کی روز افزوں ترقی نے جامع مسجد (مسجد اقصیٰ ) کو تنگ کر دیا اور صحن کافی نہ تھا حضرت اقدس نے اس کی توسیع کا ارادہ فرمایا اور یہ اللہ تعالیٰ کی اس وحی کے تحت ایک شان تھی جو وَسِعُ مَكَانَگ کی عرصہ دراز پہلے ہو چکی تھی اور اس کے بعد یہ سلسلہ بڑھتا گیا اس کے لئے کوئی عام تحریک نہیں کی گئی تھی تاہم حضرت مخدوم الملة کے خطوط کی بناء پر بعض دوستوں کو اطلاع دی گئی تھی اور مقامی طور پر بھی تین سو روپے کے قریب چندہ جمع ہو گیا تھا اور حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ کے زیر اہتمام یہ کام شروع ہو گیا تھا ابتداء قادیان کے غیر مسلموں نے مخالفت