حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 22 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 22

حیات احمد ۲۲ جلد پنجم حصہ اول سے بچاتا ، اور ان پر وار کرنے والوں کو نشانہ لعنت و ملامت بنا کر ” چاه کن را چاه در پیش کا نقشہ سامنے لاکھڑا کرتا اپنے بندوں کو ابراء کا وعدہ دیتا اور ان کے ذریعہ مومنوں کو یہ تلقین فرما تا کہ صادق آن باشد که ایام بلا می گزارد با محبت با وفا سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اپنے مطاع و متبوع کی کامل محبت اور کامل پیروی سے اللہ کریم نے وہی مقام عطا فرما رکھا تھا اسی لئے حضور نہ صرف خود ہی مشکلات و مصائب کے پہاڑوں اور مخالفت و عداوت کے طوفانوں سے نہ گھبرایا کرتے تھے بلکہ ہمیشہ دوسروں کی تسلی اور سکون و امن کا موجب بھی ہوا کرتے تھے یقیناً ہم لوگ ایسی خبروں سے گھبراتے اور خوف کھایا کرتے تھے کیوں کہ بشریت ہمارے ساتھ لگی ہوئی تھی خدا جانے اب کیا ہوگا مگر حضور جب ہم پر جلوہ افروز ہوتے مجلس لگتی اور دربار سجتا۔اور خدا کا کلام ہم پر پڑھا جاتا اس کے وعدے دو ہرائے جاتے اس کے حسن و احسان کے تذکرے ہوتے اس کی قدرت نمائی کی مثالیں کانوں میں پڑتیں، نشانات یاد دلائے جاتے تو ہمارے خوف امن سے ، خطرات تسلیوں سے اور رنج و غم خوشیوں میں تبدیل ہو کر ایمان کی زیادتی اور خدا کی معرفت کے دروازوں کے کھل جانے کا موجب ہوا کرتے۔برسات کا موسم اور اگست کا مہینہ تھا۔قادیان میں سواری کا کوئی معقول انتظام نہ تھا۔بمشکل ایک یکہ کا انتظام ہوسکا۔دوسرے کے لئے کوشش جاری تھی ، مگر وقت پر نہ پہنچا تو سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو روانہ ہو گئے تاکہ وقت پر پہنچ سکیں۔حضور نے حضرت حکیم الامت مولا نا مولوی نورالدین صاحب کو اپنے ساتھ بٹھا لیا۔تین غلام ہمرکاب تھے۔شیخ محمد اسمعیل صاحب سرساوی ،حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب اور یہ عاجز راقم یعنی عبدالرحمن قادیانی۔راستہ کیچڑ گارے کے باعث سخت تکلیف دہ اور دشوار گزرا تھا۔قادیان سے سڑک تک پہنچنے میں تو یکے کو گویا دھکیل یا اٹھا کر ہی لے جانا پڑا۔سڑک پر پہنچ کر یکے کو تیزی سے چلانے کی کوشش کی گئی۔یکہ بان کے علاوہ ہم لوگ دائیں بائیں اور پیچھے سے گھوڑے کی مدد کرتے گئے یہ سواری جب انار کلی کے قریب پختہ سڑک