حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 23 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 23

حیات احمد ۲۳ جلد پنجم حصہ اوّل پر پہنچی تو کپورتھلہ اور لاہور کے وفا کیش جاشا رلب سڑک منتظر دیکھے۔پانچ اصحاب تھے۔یاسات ایک صاحب کمز ور اور معمر تھے ان کو حضرت نے یکہ میں بٹھالیا اور باقی ہمارے ساتھ دائیں بائیں اور پیچھے دوڑتے ہوئے کچھ آگے یکہ کے بٹالہ منڈی میں پہنچے۔حضرت کی سواری موجود شفا خانہ حیوانات کے برابر کے مقام پرتھی کہ سامنے کے کھلے میدان اور چوک میں جبہ پوش مولوی یعنی مولوی محمد حسین بٹالوی اپنے دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے جبہ کے نیچے کئے خاص انداز میں ٹہلتے اور ایک بھیٹر سڑک کے دونوں کناروں پر کھڑی دکھائی دی جو کسی بُرے منظر اور شیطانی وعدے کے ایفا کے انتظار میں جمع تھی۔انہوں نے وارنٹ گرفتاری کی شیطانی پیشگوئی تو سن رکھی تھی مگر خدا کی قدرت کا ہاتھ ان لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھا۔وہ اس امید پر جمع تھے کہ نعوذ باللہ حضور کو ذلت ورسوائی میں دیکھ کر خوش ہوں گے پولیس کی حراست و نگرانی اور دونوں ہاتھوں میں کڑیاں ہوں گی مگر جب دیکھا کہ حضور آزاد ہشاش بشاش اپنے غلاموں کے حلقہ میں یکہ سے اترے ہیں۔پولیس ہے نہ کوئی اہلکار ہیں۔تو سبھی غلام و وفادار کوئی ساتھ آتے ہیں تو کوئی تشریف آوری کے انتظار میں۔ایک دوسرے سے دوسرا تیسرے سے بڑھ کر قربان و شا ر ہونے کو تیار تھا۔اس نقشہ کو دیکھ کر وہ غول بیابانی کچھ اس طرح غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔گورداسپور سے شیخ علی احمد صاحب اور لاہور سے مولوی فضل دین صاحب وکیل آئے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب پروانہ شمع نور و ہدایت اور عاشق وفدائے احمد قادیانی جو شاذ ہی کبھی ایسے موقعہ کو ہاتھ سے دیا کرتے تھے۔نیز فرشتہ سیرت صالح نوجوان مرزا ایوب بیگ صاحب مغفور۔شیخ رحمت اللہ صاحب اور بعض اور دوست بھی پہنچے امرتسر سے بھی غالباً دو تین دوست آئے جن میں مولوی شیخ یعقوب علی صاحب تراب خوب یاد ہیں۔قادیان سے چند احباب اور دوسرا یکہ بھی مع سامان آگیا تھا۔حضور سواری سے اتر خراماں خراماں پورے وقار کے ساتھ حلقہ بگوش ہونے والوں کے حلقہ میں ٹہلتے وکلاء اور آنے والے مہمانوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ڈاک بنگلہ بٹالہ کی طرف بڑھے۔جہاں صاحب ڈپٹی کمشنر اترا ہوا تھا۔صاحب کے اردلی نے دور ہی سے آتے دیکھ کر