حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 21
حیات احمد ۲۱ جلد پنجم حصہ اوّل سمجھ بیٹھتے۔ان کی نظر زمینی اور مادی اسباب پر گڑی رہتی ہے آسمان سے ان کو کوئی تعلق، نہ آسمان والے سے سروکار۔خدا کے پاک بندے جن کو خدا اپنی محبت کے لئے چن لیتا ہے جو اپنے محبوب کی محبت میں کھوئے جاتے۔جو اپنا سب کچھ کھو کر اپنے خدا کو پاتے جو اپنی ہر خواہش ، آرزو اور مقصد و مدعا کو اپنے خدا کی مشیت پر قربان کر دیتے جو اپنے آقا کے ایسے وفا دار ہوتے ہیں کہ کوئی طمع ضرورت وحاجت ان کے قدم ڈگمگا سکتی ہے نہ ہی کوئی خوف دکھ یا مصیبت ان کے اس عہد میں رخنہ و تزلزل پیدا کر سکتی ہے بلکہ ایسے وقت میں ان کا قدم اپنے خدا کی طرف زیادہ مضبوطی اور تیزی سے اٹھنے لگتا ہے۔اور وہ خود اپنے اوپر موت وارد کر کے فنافی اللہ ہوتے اور اس طرح وہی خدا کی گود اور اس کی پناہ کے مستحق ہو جاتے ہیں۔دنیا والے اپنی طرف سے ان کو آگ میں ڈال کر تباہ و برباد کر دینا چاہتے ہیں مگر آگ کا خالق خدا آگ کو بنارُ كُونِى بَرْدًا وَ سَلَمَّا عَلَى إِبْرَاهِيمَلے کا حکم دے کر قدرت نمائی فرماتا۔ناد کو گلزار بناتا کبھی ویران اور بیابانی کنوئیں میں پھینک کر خود ان کا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔مگر ان کا خدا ان کے کان میں لَتُنَبنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ کی سروش پھونکتا ، رسیلی اور محبت بھری لوری دے کر مطمئن فرماتا ہے اس طرح یہ صادق و راست باز خدا کی ذات اس کی وفا اور وعدوں پر ایسا کامل اور غیر متزلزل یقین کرنا سیکھ کر ایسے کامل ہو جاتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ خطر ناک مصیبت کی گھڑیوں، مصائب کی آندھیوں اور مشکلات کے طوفانوں میں وہ خود ہی نہیں گھبراتے ، خوف کھاتے یا ڈرا کرتے ہیں۔بلکہ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا کہتے ہوئے دوسروں کو تسلی دلاتے اور خدا کی معیت کا یقین دلا کر آرام۔امن اور سکون پیدا کر دیا کرتے ہیں۔کبھی دشمن ان کو عدالتوں میں کھینچ لاتے قتل اور فساد اور خونریزی کے مقدمات کھڑے کر کے جھوٹے گواہ بنا کر دار اور سولی دلانا اور موت کے گھاٹ اتارنا چاہتے ہیں مگر ان کا خدا ان کو إِنِّي مَعَ الرَّسُولِ اَقْوَمُ وَالُومُ مَنْ يَلُومُ کی ندا دے کر اپنی معیت کا یقین دلاتا ، دشمن کے وار ا الانبياء : ٧٠ يوسف : ١٦ التوبة : ٤٠