حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 349 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 349

حیات احمد ۳۴۹ جلد پنجم حصہ اول مخالف نہیں۔رسول کریم بھی سچا۔مولی کا رسول بھی سچا مگر پھر بھی دونوں نے اپنی صداقت کے ثبوت دیئے ہیں۔پس آپ راست باز ہی سہی ہمیں راست بازی کے ثبوت سے محروم نہ فرماویں بہر حال اب پھر کوشش کریں شاید اسی ذراسی بات میں حق ظاہر ہو جائے کہ ڈپٹی صاحب اور ان کے منشی صاحب کو یہ خبر دینے والا کیسا راست باز ہے، ہمیں تو ایسی خبریں ترقیات کا باعث ہوں گی اب آپ ہمت بلند سے کام لیں اور اس خط کو نکلوائیں جس میں نورالدین نے خوشامد کر کے منشی جی کو روکا ہے۔میرے بھائی میں دلیری سے عرض کرتا ہوں کہ میری تحریریں بچہ پن سے لے کر آج تک کبھی ایسی نہیں کہ جن کی اشاعت سے مجھے کسی نوع کا خطرہ ہو۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَهَذِهِ مِنْ فَضْلِ اللهِ عَلَى وَلَكِنْ أَكْثَرُ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ۔۶ را گست ۱۸۹۹ء حضرت ڈاکٹر بوڑے خاں صاحب کی وفات اس سے پہلے سالانہ جلسہ پر حضرت اقدس کی اس پیشگوئی کا ذکر کر آیا ہوں جو آپ نے سالانہ جلسہ کی تقریر میں فرمائی تھی کہ اگلے سال کے اندر بعض احباب کا انتقال ہو جائے گا اسی پیشگوئی کے مصداق احباب میں سے ایک حضرت ڈاکٹر بوڑے خاں صاحب اسٹنٹ سرجن قصور تھے وہ الحکم کے سر پرستوں میں سے ایک تھے اور سلسلہ میں تازہ وارد تھے اور بہت جلد انہوں نے اخلاص و وفا کا مقام حاصل کر لیا۔حضرت اقدس کو ایک الہام ہوا تھا ” بے ہوشی ، پھر غشی ، پھر موت جو ۳۰ / جون ۱۸۹۹ء کے الحکم میں شائع ہو گیا اواخر جولائی ۱۸۹۹ء میں یہ الہام حضرت ڈاکٹر بوڑے خاں صاحب کی وفات کی صورت میں پورا ہوا اور موت اسی طرح سے واقع ہوئی چنانچہ حضرت مخدوم الملة نے اپنے تیسرے خط میں اس کا ذکر کیا ہے میں حضرت بوڑے خاں صاحب کو یاد کرانے والے احمدیوں کے لئے بطور ایک نمونہ کے پیش کرنے کی نیت سے یہاں درج کرتا ہوں۔” میرے دوسرے خط مرقوم ۳۰ر جون ۱۸۹۹ء میں جو حضرت اقدس ایدہ اللہ کا الہام لکھا گیا پہلے بیہوشی ، پھر غشی ، پھر موت وہ ہمارے مکرم دوست ڈاکٹر بوڑے خاں صاحب اسٹنٹ سرجن قصور کے وجود میں اواخر جولائی ۱۸۹۹ء کو پورا ہو گیا۔ڈاکٹر صاحب خدا مغفرت کرے بڑے