حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 348
حیات احمد ۳۴۸ جلد پنجم حصہ اول ۹۔میرے نزدیک مامور من اللہ اور دوسروں میں یہ بھی ایک فرق ہے کہ مامور من اللہ ہمت نہیں ہارتے تھکتے نہیں ، ڈرتے نہیں گھبراتے نہیں ، مشکلات کے وقت دلیر ہوتے ہیں آخر کامیاب ہوتے ہیں۔دیکھ لو مرزا صاحب نے مخالفوں کے مقابلہ میں کیسے کیسے کام کئے ہیں کیا ہمت ہاری ہے۔نہیں ! تھکا نہیں ! ڈرا ہے؟ نہیں۔کیا دلیر نہیں ہوا؟ کیا کامیاب نہیں ہوا ؟ سوچو!۔ا وَتِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَة اگر منشی صاحب اپنے الہامات اور پیش از وقت اپنی پیشگوئیاں شائع کرتے تو ان کو پتہ لگ جاتا کہ ان پیشگوئیوں کی اشاعت میں کیا کیا مشکلات آتی ہیں اور پھر ان کو یہ بھی پتہ لگ جاتا کہ جو جو اعتراض انہوں نے مرزا جی پر کئے ہیں کیا وقعت رکھتے ہیں مثلاً مرزا جی پر یہ الزام کہ براہین احمدیہ کی اشاعت کیوں التوا میں ہے حالانکہ مخالفوں پر بار باراشتہار دیے گئے کہ وہ براہین کا روپیہ واپس لے لیں (اور روپیہ دیا بھی گیا) مثلاً آتھم کی پیشگوئی کہ آیا شرط پوری ہوئی جیسی الہام میں مشروط تھی یا نہ ہوئی مثلاً بشیر احمد کے متعلق کہ وہ موعود فرزند ہے حالانکہ وہ موعود حسب الہامات بحمد اللہ موجود ہیں مثلاً ان کا خیال کہ مسجد کا روپیہ مسجد پر خرچ ہوا یا نہیں یا معرض التوا میں ہے وغیرہ وغیرہ۔اب تک تو منشی صاحب اپنے گھر میں خاص خاص احباب کے سامنے بیان فرماتے ہیں اور ان کے احباب بھی بیان فرماتے ہیں کہ ان کی پیشگوئیاں بہ نسبت مرزا جی کے بہت مصفی اور صحیح ہیں مگر جب معاملہ پبلک میں عام طور پر مرزا جی کی طرح پیش ہو تب ظاہر ہو جائے گا کہ مامور من اللہ کون ہے عِنْدَ الْاِمْتِحَان يُكْرَمُ الرَّجُلُ اَوْ يُهَانُ۔برادرم! یا درکھو! جو باتیں الہامی طور پر ثابت ہوں ان میں اعلیٰ وہی ہے جو لکھی ہوئی ہم دیکھیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اخم عِنْدَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ کے نبی کریم کے مخالفوں پر بھی الزام قائم ہوا ہے اگر ان کے پاس غیب ہے تو اسے لکھا ہوا پیش کریں میرے بھائی! آخر میں آپ کو بڑے زور اور جوش سے نصیحت کرتا ہوں آپ کامل استقلال کامل بہادری کامل حوصلہ اور اعلیٰ ہمت سے کام لے کر اس وقت ڈپٹی صاحب سے دریافت فرماتے کہ لَیسَ الخَبُرُ كَالْمُعَايَنَةِ ہمیں وہ خط نورالدین کا دکھاویں۔آپ ڈپٹی صاحب اگر چه راست باز ہیں مگر راست بازی کا ثبوت دینا راست بازی کے ل الطور: ۴۲