حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 346 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 346

حیات احمد ۳۴۶ جلد پنجم حصہ اول وہ ظاہر کر دیتے تھے کہ ان الہامات میں حضرت مسیح موعود کےخلاف اظہار ہوا ہے اور صادق کے مقابلہ میں کاذب نا کام ہو جاتا ہے، ان سے پہلے عبدالحق غزنوی وغیرہ نامراد ہو چکے تھے اس لئے الہی بخش سے مطالبہ کیا جاتا تھا۔اس سلسلہ میں ڈپٹی فتح علی شاہ صاحب سے حضرت منشی تاج الدین صاحب رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ کیوں الہامات شائع نہیں کئے جاتے اس پر انہوں نے حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا کہ حضرت حکیم الامت نے منت و سماجت سے لکھا ہے کہ شائع نہ کئے جاویں۔جب یہ خبر حضرت حکیم الامت کو حضرت منشی تاجدین صاحب کی روایت سے پہنچی تو آپ نے حضرت منشی صاحب کو ایک مکتوب لکھا جس میں اس بیان کی تکذیب کی اور زور دیا کہ میرے اُس خط کا مطالبہ کیا جاوے چونکہ یہ تاریخی مکتوب ہے اسے میں ذیل میں درج کر دیتا ہوں۔برادرم منشی تاجدین صاحب السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ پرسوں شام کو ایک میرے مکرم دوست نے برسر مجلس ذکر فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ منشی تاجدین صاحب نے ارقام فرمایا ہے، ڈپٹی فتح علی شاہ صاحب سے میں نے دریافت کیا ہے کیوں اب تک منشی الہی بخش صاحب نے اپنے الہامات در باب حضرت مرزا صاحب شائع نہیں فرمائے۔ڈپٹی صاحب نے فرمایا کہ نور الدین نے یعنی اس راقم خاکسار نے منشی جی کو بمنت و سماجت خط لکھا ہے کہ منشی صاحب ایسے الہامات کے شائع کرنے سے باز رہیں اس لئے منشی صاحب نے اشاعت الہامات مخالفہ مرزا صاحب سے اعراض کیا۔برادرم اس کلام کے سننے سے مجھے تعجب اور حیرت ہوئی اور میں عام اہل اسلام کی حالت پر دیر تک افسوس کرتا رہا، تعجب اس لئے کہ ایک ملہم من اللہ جس کو الہام الہی سے ثابت ہو گیا کہ فلاں شخص اللہ اور رسول کا مخالف ہے تو اس مخالف اللہ ورسول کا پردہ فاش کرنے کے لئے ہمہ تن متوجہ ہونا چاہیے تھا کسی کے روکنے سے وہ کیونکر رک سکتا تھا؟ ۲۔جب منشی الہی بخش صاحب کو ثابت ہو چکا ہے کہ مرزا صاحب کے الہامات نعوذ باللہ شیطانی ہیں اور غلط ہوتے ہیں اور ان کو پختہ طور پر معلوم ہوا ہے کہ نورالدین مرزا جی کا دل سے جان