حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 345
حیات احمد ۳۴۵ جلد پنجم حصہ اول شائع کرنے کا وعدہ کر لیا مگر ساتھ ہی یہ اعلان بھی کر دیا گیا کہ یا تو ساتھ ساتھ ہی مضمون ختم ہونے کے اس پر ریویو بھی کر دیا جاوے گا یہ اعلان بھی صاف تھا اور مولوی صاحب سے مضامین شروع کرنے کی درخواست کی گئی۔مگر فیضی صاحب کو حوصلہ نہ ہوا کہ وہ اس سلسلہ کو شروع کریں۔الحکم نے فراخدلی سے ایک مخالف سلسلہ کے مضمون کو اس وجہ سے کہ علمی رنگ میں لکھنے کا اس نے وعدہ کیا تھا یہ پیشکش کی تھی جس کے قبول کرنے سے فیضی صاحب کو خاموش ہو جانا پڑا۔فیضی صاحب کے اس اعلان کی بناء پر حیات احمد کے اس حصہ میں مجھے اس لئے بھی ذکر کرنا پڑا کہ آگے چل کر وہ سانحہ عظیم آتا ہے جو حضرت اقدس کی صداقت کا ایک عظیم الشان نشان ٹھہرا اس کی تفصیل تو اپنے موقعہ پر آئے گی یہاں اس قدر بتادینا ضروری ہے کہ حضرت اقدس نے اعــجـــاز المسیح کے نام سے عربی زبان میں ایک مُتَحَدِیانہ کتاب لکھی تھی اس کتاب پر فیضی صاحب نے نوٹ لکھے تھے اور جیسا کہ اعجاز المسیح کے پہلے ہی صفحہ پر مقابلہ کرنے والے کی ندامت و ہلاکت کی پیش گوئی تھی ، فیضی اس کا شکار ہوا اور پیر صاحب گولڑوی نے ان نوٹوں کی بنا پر ایک کتاب لکھی جس کے متعلق مولوی کرم دین صاحب نے خط و کتابت کر کے اصل راز کا اظہار کیا اور پھر اس کا سلسلہ مقدمات کی صورت میں لمبا ہوا بالآخر مولوی کرم دین صاحب سزائے جرمانہ کے مستحق ٹھہرے جیسا کہ اوپر قارئین کرام پڑھ چکے ہیں کہ کرم دین صاحب نے کس اخلاق سے رویا صالحہ کی بناء پر خط لکھا اور پھر اس کے ساتھ میدان مقابلہ میں آیا اور شکست فاش ہی نہیں کھائی بلکہ آخری عمر میں اس کا جو انجام ہوا وہ عبرتناک ہے۔ڈپٹی فتح علی شاہ سے مطالبہ منشی الہی بخش صاحب کا ذکر کسی قدر اس سے پہلے آچکا ہے ان سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ جو الہامات ( بقول ان کے ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف ہوئے ہیں ان کو شائع کر دیں یہ ظاہر ہے کہ مطبوعہ الہامات شائع ہونے پر ان کی عملی صورت خود حق و باطل کا فیصلہ کر دے گی