حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 344 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 344

حیات احمد ۳۴۴ جلد پنجم حصہ اول سے ایسا ہی ہے۔خطرناک ریاضتیں کرنا اور اعضاء اور قومی کو مجاہدات میں بریکار کر دینا محض علمی بات اور لا حاصل ہے اس لئے ہمارے ہادی کامل علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا " لَا رَهْبَانِيَّةَ فِي الْإِسْلَامِ “ یعنی جب انسان کو صفت اسلام ( گردن نهادن بحکم خدا و موافقت تامہ مقادیر الہیہ ) میسر آجائے تو پھر رہبانیت یعنی ایسی مجاہدوں اور ریاضتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔“ اس کے بعد سادھو صاحب تشریف لے گئے اور کھانا رکھا گیا حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے رہبانیت کو نہیں رکھا اس لئے کہ وہ معرفت تامہ کا ذریعہ نہیں ہے۔مولوی محمد حسن فیضی ساکن بھیں مولوی محمد حسن فیضی ساکن بھیں ، مولوی کرم الدین صاحب کے عزیز رشتہ دار تھے اور ان کی عربی قابلیت کا اس علاقہ میں شہرہ بھی تھا اسی مناسبت سے انہوں نے اپنا تخلص فیضی رکھا ہوا تھا۔فیضی صاحب نے ۱۸۹۹ء کے اوائل میں چودھویں صدی راولپنڈی میں ایک خط شائع کیا کہ وہ مسئلہ حیات ، وفات مسیح پر ایک علمی بحث کا سلسلہ لکھنا چاہتے ہیں بشرطیکہ اخبار چودھویں صدی میں کچھ صفحات مخصوص کر دئیے جاویں، اخبار مذکور نے اس درخواست کو منظور کر لیا مگر بعد میں لاہور سے کسی کلرک نے ایڈیٹر صاحب چودھویں صدی کے نام خط لکھا کہ اس قسم کے مضامین کی اشاعت اخبار مذکور کے قومی فرائض اور مقاصد کے خلاف ہے جس پر اخبار مذکور نے اعلان کر دیا کہ وہ اس قسم کے مضامین کو شائع نہیں کر سکتے اسباب کچھ بھی ہوں مگر اس خط کو آڑ بنا کر چودھویں صدی نے بالآخر انکار کر دیا چودھویں صدی کے ایڈیٹر صاحب قاضی سراج الدین صاحب پہلے ایک بزرگ کا مضمون چھاپ کر خمیازہ بھگت چکے تھے بہر حال جب انہوں نے انکار کر دیا تو راقم الحروف (ایڈیٹر الحکم ) نے اعلان کر دیا کہ مولوی محمد حسن صاحب بھیں اپنے اس موعود مضمون کو قلمبند کر کے بھیج دیں۔الحکم ان کو شائع کر دے گا۔میہ اعلان ۰ار مارچ ۱۸۹۹ء کو الحکم میں کیا گیا اس میں الحکم کے چار پورے صفحہ ہفتہ وار بطور ضمیمہ