حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 343 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 343

حیات احمد ۳۴۳ جلد پنجم حصہ اول ہے پس اس سے معلوم ہوا کہ مقربانِ بارگاہ الہی پر جو مخالفانہ حملے ہوتے ہیں وہ کیوں ہوتے ہیں معرفت اور گیان کے کوچہ سے بے خبر لوگ ایسی مخالفتوں کو ایک ذلّت سمجھتے ہیں مخالفین کو کیا خبر ہوتی ہے کہ اس ذلت میں ان کے لئے ایک عزت اور امتیاز نکلتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے وجود اور ہستی پر ایک نشان ہوتا ہے اسی لئے یہ وجود آیات اللہ کہلاتے ہیں۔غرض ہم جو اشتہار دے دے کر لوگوں کو بلاتے ہیں تو ہماری یہی آرزو ہے کہ ان کو اس خدا کا پتہ دیں جسے ہم نے پایا اور دیکھا ہے اور وہ اقرب راہ بتلائیں جس سے انسان جلد باخدا ہو جاتا ہے ه پس ہمارے خیال میں قصہ کہانی سے کوئی معرفت اور گیان ترقی نہیں پاسکتا جب تک کہ خود عملی حالت سے انسان نہ دیکھے اور یہ بدوں اس راہ کے جو ہماری راہ ہے میسر نہیں اور اس راہ کیلئے ایسی صعوبتوں اور مشقتوں کی ضرورت نہیں یہاں دل بکار ہے خدا تعالیٰ کی نگاہ دل پر پڑتی ہے اور جس دل میں محبت اور عشق ہو اس کو مورتی سے کیا غرض ؟ مورتی پوجا سے انسان کبھی صحیح اور یقینی نتائج پر پہنچ نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ کی نگاہ انسان مخلص کے دل کے ایک نقطہ پر ہوتی ہے جسے وہ دیکھتا ہے اور جانتا ہے کہ اس کی خاطر وہ خوش دلی سے ہر صعوبت و مکروہ کو برداشت کر لے گا یہ ضرور نہیں کہ کوئی بڑی بڑی مشقتیں کرے اور دائم حاضر باش رہے، ہم دیکھتے ہیں کہ خاکروب ہمارے مکان میں آکر بڑی تکلیف اٹھاتا ہے اور جو کام وہ کرتا ہے ہمارا ایک بڑا معزز مخلص دوست وہ کام نہیں کرسکتا ، تو کیا ہم اپنے وفادار احباب کو بے قدر سمجھیں اور خاکروب کو معزز و مکرم خیال کریں۔بعض ہمارے ایسے احباب ہیں جو مدتوں کے بعد تشریف لاتے ہیں اور انہیں ہر وقت ہمارے پاس بیٹھنا میسر نہیں آتا مگر ہم خوب جانتے ہیں کہ ان کے دلوں کی بناوٹ ایسی ہے اور وہ اخلاص و مودت سے ایسے خمیر کئے گئے ہیں کہ ایک وقت ہمارے بڑے بڑے کام آ سکتے ہیں۔نظام قدرت میں ہم ایسا ہی دیکھتے ہیں کہ جتنا شرف بڑھ جاتا ہے محنت اور کام ہلکا ہو جاتا ہے ایک مذکوری کو دیکھو انبار پروانوں کا اسے دیا جاتا ہے اور ایک ہفتہ کے اندر حکم ہے کہ تعمیل کر کے حاضر ہو۔برسات ہو دھوپ ہو جاڑا ہود یہات کے رستے خراب ہوں کوئی عذر سنا نہیں جاتا اور تنخواہ پوچھو تو پانچ روپیہ اور حکام بالا دست کا معاملہ اس کے بالکل برخلاف ہے۔اس قانون سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قانون بھی اپنے برگزیدوں