حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 20 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 20

حیات احمد ۲۰ جلد پنجم حصہ اوّل ہے۔اس کی تائید اور نصرت کا یقین ہوتا۔بلکہ ہم امید وار ہوتے ہیں کہ اب ضرور کوئی نشان ظاہر ہوگا۔اسی روز یا زیادہ سے زیادہ دوسرے ہی دن پھر ایک آدمی گورداسپور سے چودھری صاحب مغفور کی چٹھی لے کر آیا جس میں اس امر کی وضاحت تھی کہ معاملہ کیا ہے۔نیز لکھا تھا کہ وہ مقدمہ امرتسر سے گورداسپور آ گیا ہے اور کہ حضور کے نام بجائے وارنٹ کے سمن جاری ہو چکا ہے جو اگلے روز حضور کی بٹالہ میں حاضری کے لئے سپیشل آدمی کے ہاتھ برائے تعمیل بھیجا جا چکا ہے۔مگر امرتسر سے جاری شدہ وارنٹ کے متعلق پھر بھی کوئی اطلاع نہ آئی کہ وہ کیا ہوا؟ اس تفصیلی اطلاع پر حضور نے پھر بعض دوستوں کو گورداسپور اور لا ہور بھیج کر پیروی مقدمہ کے لئے گورداسپور سے شیخ علی احمد صاحب وکیل اور لاہور سے شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کی معرفت کسی قابل قانون دان کی خدمات حاصل کرنے کا انتظام فرمایا ادھر چودھری صاحب کے خط کے بعد سرکاری پیادہ بھی سمن لے کر آ گیا اور اگلے دن صبح کو بٹالہ جانے کی تیاری ہونے لگی۔مقدمہ کی نوعیت یعنی اقدام قتل بجائے خود ایک خطرناک اور مکر وہ الزام تھا جس کی مجرد خبر ہی معمولی تو در کنار بڑے بڑے دل گردہ کے لوگوں کے اوسان خطا کر دیا کرتی ہے ایسی حالت میں ان کو کچھ بن نہیں پڑتا اکثر حواس باختہ ہو کر پاگل ہو جاتے اور گھر ان کے ماتم کدہ بن جایا کرتے ہیں مگر یہ مقدمہ نہ صرف یہ کہ اقدام قتل کا مقدمہ تھا بلکہ اس کے ساتھ ہی یہ اضافہ کہ ایک انگریز پادری کی طرف سے دائر کیا گیا تھا ، جو علاوہ اپنے اثر ورسوخ اور وسائل و اسباب کے حکمران قوم کا فرد، پادری ہونے کے باعث اپنی قوم میں ممتاز حیثیت کا مالک اور واجب الاحترام ہستی مانا جاتا تھا۔اس پر طرفہ یہ کہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہا در خصوصیت سے پادری منش مذہبی آدمی اور کٹر عیسائی مشہور تھے۔ان تمام باتوں کو ملا کر یکجائی غور کرنے سے اس مقدمہ کی نوعیت کتنی مہیب۔خوف ناک اور ڈراؤنی بن جاتی ہے؟ ظاہر ہے۔مگر یہ سب کچھ انہی کے لئے ہوتا ہے جن کو اپنے خدا سے کوئی تعلق ہوتا ہے نہ اس پر ایمان۔جن کو خدا کی محبت و وفا کے چشمہ کا علم ہوتا ہے نہ اس کی صفات کا عرفان۔جن کو خدا کی قدرت پر بھروسہ ہوتا ہے نہ نصرت کی امید۔بلکہ وہ اپنی تدابیر اور کوششوں ہی کو اپنا حاجت روا اور مطلب برار